وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے انتخاب کے خلاف درخواست سماعت کے لئے منظور،نوٹس جاری، سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف دائر درخواست پر سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔
چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ شیر افضل مروت نے سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست دائر کر رکھی ہے، جس میں علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے منصب پر بحال کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیس میں آئینی نکتہ کیا ہے؟ شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کی منشا کے مطابق کوئی عوامی عہدیدار رضاکارانہ طور پر ہی مستعفی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے استعفے میں لکھا تھا کہ وہ بانی کی ہدایت پر مستعفی ہو رہے ہیں، جبکہ گورنر نے ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مزید مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ نااہل شخص پراکسی کے ذریعے ریاست نہیں چلا سکتا اور پراکسی کے ذریعے حکومت چلانا آئین کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
عدالت نے کیس میں صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔ بعدازاں عدالت نے مزید سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔



