تھر کول کمپنیوں کی ناانصافیاں، ہزاروں ملازمین کی ہڑتال جاری، پولیس طلب، جبری بے دخلی

مٹھی (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے)تھر کول بلاک ون میں سینو سندھ اور ہنڈا کمپنی کے خلاف سینکڑوں ملازمین 48 گھنٹے سے ہڑتال پر ہیں۔ مزدوروں نے اجرتوں میں کمی، غیر قانونی کٹوتیوں، غلط جرمانے اور گیٹ پاس سے چھٹی نہ دینے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین میں ڈرائیور، فلنگ مین، گرائنڈر اور لوڈر آپریٹرز سمیت مختلف شعبوں کے مقامی ملازم شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے تنخواہ 40 ہزار مقرر کی ہے جب کہ ہنڈا کمپنی 31 ہزار ادا کرتی ہے اور اس کے اوپر جرمانے لگا کر تنخواہ سے آدھی رقم کاٹ لیتی ہے۔ احتجاج کے دوران کمپنی انتظامیہ نے مسائل حل کرنے کے بجائے پولیس کو بلا کر ملازموں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جبکہ ملازمین کو بلیک لسٹ کرنے اور نوکریوں سے نکالنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ کارکنوں نے الزام لگایا کہ ایچ آر حکام شہباز رانگڑ، نثار رحمان، ھوت خان، شاہ زیب اور وجے کمار الاؤنسز اور تنخواہوں سے غیر قانونی کٹوتی کر رہے ہیں جو کہ کرپشن ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے ان کا کھانا بند کر دیا ہے تاہم وہ کسی صورت احتجاج ختم نہیں کریں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومتی پالیسی کے مطابق بنیادی تنخواہ میں اضافہ کیا جائے اور تمام الاؤنسز بحال کیے جائیں بصورت دیگر احتجاج میں شدت لائی جائے گی۔
ملازمین کے مطابق معمولی غلطی پر روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والوں کی تنخواہ سے 2 ہزار روپے تک کا جرمانہ کاٹا جاتا ہے جس کی وجہ سے آدھے سے زیادہ ورکرز کی تنخواہ ضائع ہوجاتی ہے۔ مزدوروں کو شادی، خوشی، سوگ یا ہنگامی چھٹی کے لیے بھی سخت مشقت دی جاتی ہے۔ مرنے کی صورت میں چھٹی کے لیے گیٹ پاس حاصل کرتے وقت لاش کی تصویر جمع کرانے کی شرط عائد کی گئی ہے جب کہ شادی کی چھٹی کے لیے بھی تصاویر لگوانا ضروری ہے جو کہ کارکنوں کی تذلیل ہے۔ معمولی باتوں پر جرمانے، چھٹیوں سے انکار اور گیٹ پاسز پر پابندی ان کی روزی روٹی کے ساتھ سنگین کھیل کھیل رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والے کارکنوں کی تعداد ایک ہزار بتائی جاتی ہے جو گزشتہ 48 گھنٹوں سے مکمل ہڑتال پر ہیں۔
دوسری جانب تھر کول بلاک ون میں ڈرائیورز، فلنگ مین، گرائنڈر آپریٹرز، لوڈر آپریٹرز اور دیگر ورکرز کے احتجاج کے باعث تیسرے روز بھی کام معطل رہا جس سے کوئلے کی کان کنی سمیت تمام کام متاثر ہوا ہے۔
ادھر پولیس کے دباؤ کی وجہ سے ملازمین کو زبردستی کمپنیوں سے نکالا جا رہا ہے۔



