مٹھی کے قریب گاؤں ویساسر میں سرکاری گوچر اراضی سے مبینہ قبضے ختم، کچے مکانات مسمار کرکے زمین واگزار کرا لی گئی

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) گاؤں ویساسر، تعلقہ مٹھی میں سرکاری گوچر چراگاہ کی زمین پر مبینہ قبضوں کے خلاف انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے کچے مکانات مسمار کرکے زمین واگزار کرا لی۔

ذرائع کے مطابق، 02 ستمبر 2026ء کو اسسٹنٹ کمشنر مٹھی عمیر اشرف سرکاری گوچر اراضی سے مبینہ تجاوزات ختم کرانے کے لیے پولیس پارٹی کے ہمراہ گاؤں ویساسر پہنچے تھے، جہاں بااثر افراد اور بھیل برادری کے بعض افراد کی جانب سے مبینہ طور پر سرکاری کارروائی میں مزاحمت کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس پارٹی پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں کچھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد تھانہ مٹھی میں حملہ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

دوسری جانب، 03 ستمبر کی شام اسسٹنٹ کمشنر مٹھی عمیر اشرف کی نگرانی میں ڈی ایس پی مٹھی، ایس ایچ او تھانہ مٹھی اور ایس ایچ او تھانہ اسلام کوٹ پولیس نفری کے ہمراہ دوبارہ گاؤں ویساسر پہنچے، جہاں سرکاری گوچر اراضی پر قائم کچے مکانات اور دیگر مبینہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کی گئی۔

کارروائی کے دوران کچے مکانات مسمار کر دیے گئے اور مبینہ غیر قانونی قبضے ختم کرا کے سرکاری گوچر زمین واگزار کرا لی گئی۔

اس موقع پر 02 ستمبر کو اسسٹنٹ کمشنر مٹھی اور پولیس پارٹی پر مبینہ حملے کے مقدمے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے بھی مارے، تاہم پولیس کارروائی سے قبل ملزمان اپنے گھروں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

مقدمے میں نامزد اہم ملزمان میں مالو ولد سومجی، جیسو ولد مالو، راڻو ولد مالو، جلال ولد مالو اور اشوک ولد شامون شامل ہیں، جبکہ دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق نامزد اور مطلوب ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ اور چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے۔ انتظامیہ کے مطابق سرکاری گوچر زمین سے مبینہ تجاوزات ختم کرا کے زمین خالی کرا لی گئی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button