میر رضا قتل کیس: عدالت کا تفتیش میں سست روی پر اظہارِ تشویش، 24 اگست تک مہلت

کراچی (جانوڈاٹ پی کے) نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کے نئے تفتیشی افسر سراج لاشاری عدالت میں پیش ہوئے، جہاں عدالت نے کیس کی تفتیش میں سست روی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

مدعی مقدمہ میر حسین بھی اپنے وکیل جبران ناصر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ تفتیشی افسر سراج لاشاری نے عدالت کو بتایا کہ مقتول کے بزنس پارٹنر محمد احمد کا بیان بطور گواہ ریکارڈ کرلیا گیا ہے۔

محمد احمد نے عدالت کو بتایا کہ پولیس جب بھی انہیں بلاتی ہے وہ پیش ہوتے ہیں، تاہم انہیں کئی کئی گھنٹے بٹھا کر رکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق 13 اگست کو بھی پولیس نے طلب کیا تھا اور وہ پیش ہوئے۔

عدالت نے محمد احمد کو ہدایت کی کہ پولیس کی جانب سے طلب کیے جانے پر انہیں پیش ہونا ہوگا، جبکہ عبوری ضمانت کے دوران نہ گھر تبدیل کرنے اور نہ پولیس کو اطلاع دیے بغیر شہر سے باہر جانے کی ہدایت کی گئی۔

وکیل مدعی مقدمہ نے عدالت کو بتایا کہ محمد احمد کا بیان بطور گواہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم اگر ان کی درخواست ضمانت مسترد یا منظور ہوتی ہے تو صورتحال مختلف ہوسکتی ہے۔

عدالت نے تفتیش میں سست روی پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ مقتول کے والد، خاندان اور شہر کے لوگ پریشان ہیں، ایک شخص کا قتل ہوا ہے، اس لیے تحقیقات کرکے حقائق سامنے لائے جائیں۔

تفتیشی افسر سراج لاشاری نے بتایا کہ انہیں 13 اگست کو کیس کی تفتیش سونپی گئی۔ کیس میں 35 افراد سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مقتول سے رابطے میں رہنے والے تمام افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کال ریکارڈ کے مطابق وقوعے کے روز میر رضا سے رابطے میں رہنے والے افراد کو خصوصی طور پر طلب کیا گیا ہے۔ محمد احمد اور میر رضا کے درمیان بھی وقوعے کے روز رابطہ ہوا تھا۔

تفتیشی افسر نے واضح کیا کہ ابھی تک کوئی ملزم سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کسی شخص کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

عدالت نے محمد احمد کی عبوری ضمانت میں 24 اگست تک توسیع کرتے ہوئے انہیں تفتیش میں تعاون کی ہدایت کردی۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو بھی 24 اگست تک تحقیقات مکمل کرکے آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کی مہلت دے دی۔

دوسری جانب میر رضا قتل کیس کی تفتیش کے لیے قائم کمیٹی میں مزید 2 ارکان شامل کیے گئے ہیں، جس کے بعد کمیٹی کے ارکان کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق کمیٹی میں ایس ایچ او شاہ لطیف تھانہ اور ایک ڈی ایس پی کو شامل کیا گیا ہے۔

کمیٹی نے میر رضا کا موبائل فون اور اسمارٹ واچ این سی سی آئی اے سے واپس لے لیے ہیں، جنہیں فارنزک کے لیے لاہور فارنزک لیب بھیجا جائے گا۔ میر رضا کے اہلخانہ نے این سی سی آئی اے سے فارنزک کرانے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

تفتیشی حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے مزید شواہد بھی حاصل ہوئے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button