میڈیکل بورڈ کیوں تبدیل کیا گیا؟ جوڈیشل کمیشن کا سیکریٹری صحت سے استفسار

 کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی جاری رہی، جس دوران سیکریٹری صحت طاہر حسین سانگی، اسپیشل سیکریٹری صحت شہریار میمن اور ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن سمیع اللہ سومرو سے میڈیکل بورڈ کی تبدیلی اور ابتدائی تفتیش سے متعلق مختلف سوالات کیے گئے۔

سیکریٹری صحت طاہر حسین سانگی نے کمیشن کو بتایا کہ انہیں میڈیکو لیگل ایکٹ اور سیکشن 16 کا علم نہیں۔ ان کے مطابق عدالت کا حکم سیکریٹری صحت اور پولیس سرجن کو بھیجا گیا تھا، جس میں سینئر میڈیکل ماہرین پر مشتمل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔

طاہر سانگی نے بتایا کہ انہیں معلوم ہوا کہ پولیس سرجن کی جانب سے تشکیل دیے گئے بورڈ کے پانچوں ارکان محکمہ صحت سے تعلق رکھتے تھے، جس پر انہوں نے ڈی جی ہیلتھ اور پولیس سرجن کو مل کر بورڈ تشکیل دینے کا کہا۔ تاہم اس وقت تک پولیس سرجن بورڈ تشکیل دے چکے تھے۔

سیکریٹری صحت کے مطابق پانچوں ارکان محکمہ صحت سے ہونے کے باعث شفافیت یقینی بنانے کے لیے میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 6 اگست کو ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان سے بات ہوئی تھی، تاہم اس گفتگو میں میڈیکل بورڈ کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی ہیلتھ نے مشورہ دیا تھا کہ پولیس سرجن کے تشکیل کردہ بورڈ میں محکمہ صحت کے مزید ارکان شامل کرلیے جائیں، جس پر انہوں نے کہا تھا کہ ایسا کیا جاسکتا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے اسپیشل سیکریٹری صحت شہریار میمن کو ڈی جی ہیلتھ سے رابطہ کرنے اور شفافیت کے لیے بورڈ میں تبدیلی کی ہدایت کی۔

کمیشن نے سوال کیا کہ کیا اس سے قبل کبھی ایک رات پہلے میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا ہے؟ طاہر سانگی نے جواب دیا کہ اپنے 21 سالہ کیریئر میں انہوں نے کبھی میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دیا۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ سیکریٹری ہونے کی حیثیت سے ذمہ داری ان پر عائد ہوگی۔ کمیشن نے یہ بھی دریافت کیا کہ میڈیا پر کیس نمایاں ہونے کے بعد مزید ارکان کو شامل کرنے کی اجازت کیوں دی گئی۔ طاہر سانگی نے بتایا کہ ڈی جی ہیلتھ نے مزید ارکان شامل کرنے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور انہوں نے عدالتی احکامات کے مطابق شفافیت برقرار رکھتے ہوئے بورڈ میں تبدیلی کی ہدایت کی۔

کمیشن نے سوال کیا کہ محکمہ صحت کے معاملات میں اسپیشل سیکریٹری شہریار میمن کا نام بار بار کیوں سامنے آرہا ہے۔ طاہر سانگی نے جواب دیا کہ محکمہ صحت میں زیادہ تر کام اسپیشل سیکریٹری کی ذمہ داری ہوتا ہے، تاہم ارکان کی شمولیت کے لیے ان کی اجازت ضروری نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق شہریار میمن کو معاملے سے آگاہ رکھا گیا تھا۔

کمیشن نے کراچی کے ماہرین کو نکال کر حیدرآباد کے ڈاکٹروں کو بورڈ میں شامل کرنے پر بھی سوالات کیے اور پوچھا کہ پروفیسر نسیم یا ڈاکٹر فرح میں کیا خرابی تھی اور نئے شامل کیے گئے ماہرین ان سے کیسے بہتر تھے۔ طاہر سانگی نے کہا کہ وہ کسی بھی رکن کو ذاتی طور پر نہیں جانتے جبکہ ماہرین کی قابلیت کے بارے میں ڈی جی ہیلتھ بہتر طور پر جانتے ہیں۔

جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ ’’آپ کسی کو بچانے کی کوشش کیوں کررہے ہیں، یہ سمجھ نہیں آرہا‘‘، اور یہ بھی سوال کیا کہ منتخب کیے گئے افراد کو دوسروں سے بہتر سمجھنے کی وجہ کیا تھی۔ طاہر سانگی نے جواب دیا کہ ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں تھا۔

بعد ازاں اسپیشل سیکریٹری صحت شہریار میمن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ قانون میں قریبی میڈیکل کالج کے ماہرین کو بورڈ میں شامل کرنے کا کہا گیا ہے۔ کمیشن نے سوال کیا کہ کراچی قریب ہے یا حیدرآباد اور پولیس سرجن کے بورڈ میں کیا خرابی تھی؟

شہریار میمن نے جواب دیا کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے حوالے سے ان کی کوئی سفارشات نہیں تھیں۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پہلے بورڈ کو ناکافی سمجھ کر نیا بورڈ تشکیل دیا گیا۔

کمیشن نے 6 اگست کو ڈی جی ہیلتھ سے رابطے کے بارے میں بھی استفسار کیا، جس پر شہریار میمن نے بتایا کہ ان کا ڈی جی ہیلتھ سے شام 5 سے 7 بجے کے درمیان رابطہ ہوا تھا۔ کمیشن نے میڈیکل بورڈ کی تبدیلی کے پس منظر اور متعلقہ حکام کے کردار سے متعلق مزید سوالات جاری رکھے۔

مزید خبریں

Back to top button