اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں 2 روز کی توسیع، وکلا کی درخواست مسترد

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) جوڈیشل مجسٹریٹ ضلع شرقی نے ریاست اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے سے متعلق مقدمے میں عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 2 روز کی توسیع کردی۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اقرار الحسن کو عدالت میں پیش کیا، جہاں ان کے وکلا نے گرفتاری کے طریقہ کار اور مقدمے کے قانونی جواز پر اعتراضات اٹھائے۔
وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ اقرار الحسن کی گرفتاری کے دوران قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر لاہور گئے ہی نہیں، اس کے باوجود وہاں سے گرفتاری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ راہداری ریمانڈ بھی حاصل نہیں کیا گیا۔
وکیل صفائی نے عدالت میں کہا کہ اقرار الحسن ایک معروف اینکر پرسن ہونے کے ساتھ اب سیاسی جماعت کے سربراہ بھی ہیں۔ ان کے مطابق گورنر راج کے معاملے پر اپنی رائے دینا یا اسے غلط قرار دینا کوئی جرم نہیں۔ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ سیاسی معاملات پر اظہارِ رائے کو بنیاد بنا کر کارروائی کرنا درست نہیں۔
سماعت کے دوران وکیل صفائی نے متعلقہ ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو منٹ 12 سیکنڈ دورانیے کی ویڈیو مکمل طور پر آئینی ہے۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ سیاسی شخصیات کے بارے میں بیان دینا بذاتِ خود جرم نہیں بنتا۔
سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا، تاہم بعد ازاں اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ملزم کے وکلا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر تفتیش میں پیش رفت سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے۔



