مکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے، تہران نے چار ملکی مذاکرات کی تصدیق کردی

تہران+اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان علاقائی سلامتی اور تعاون کے فروغ کے لیے اعلیٰ سطح کے چار ملکی اجلاس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام آج تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے، جس میں خطے کی صورتِ حال، سکیورٹی چیلنجز اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ تہران آج ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے سینئر حکام کی میزبانی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اجلاس میں فلسطین، لبنان اور خطے کی مجموعی صورتِ حال زیرِ بحث آئے گی، جبکہ علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی ضرورت پر بھی زور دیا جائے گا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران خطے کی صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے دفاع کا حق استعمال کرے گا، کیونکہ ملک کو کسی بھی وقت جارحیت کے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
ایرانی ترجمان کے مطابق چار ملکی اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیش کی تھی، جس پر ایران نے آمادگی ظاہر کی۔ ان کے دورۂ ایران کے دوران اس ملاقات کے انعقاد پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا تھا۔
سعودی وزیر دفاع وفد کی قیادت کریں گے
سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان آج تہران میں ہونے والے اجلاس میں سعودی وفد کی قیادت کریں گے۔ اجلاس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کے نمائندے ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کی بھی اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔ ملاقات کا مقصد خطے میں جاری بحران کے تناظر میں رابطہ کاری بڑھانا اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ مذاکرات میں تنازعات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا جائے گا۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقری نے بھی اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان اور ترکیہ کی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم قالن تہران پہنچیں گے۔
علی باقری کے مطابق تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام ایرانی قیادت کے ساتھ مشترکہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب خطے میں سلامتی کے فروغ اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کرسکتے ہیں۔
قطری مصالحت کاروں کا وفد بھی تہران پہنچ گیا
دوسری جانب قطر کے مصالحت کاروں کا وفد بھی تہران پہنچ چکا ہے۔ قطری وفد ایرانی حکام کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبات پہنچائے گا۔
قطری نشریاتی ادارے کے مطابق ایران مذاکرات کے دوران اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبات پر زور دے رہا ہے۔
یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں جاری ہیں جب سعودی عرب کو یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف ممالک کے درمیان رابطوں میں تیزی آئی ہے۔ تہران میں ہونے والے چار ملکی اجلاس اور قطر کی مصالحتی کوششوں کو علاقائی سلامتی اور سفارتی روابط کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔



