کینسر کی تشخیص کے بعد پہلی رات زندگی کی سب سے تنہا اور طویل رات تھی، منیشا کوئرالا

ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ کی معروف اداکارہ منیشا کوئرالا نے کینسر کی تشخیص کے بعد گزرنے والے مشکل اور تنہائی بھرے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیماری کی تشخیص کے بعد کی پہلی رات ان کی زندگی کی سب سے تنہا اور طویل رات تھی، جب انہیں محسوس ہوا کہ شاید وہ مرنے والی ہیں۔
منیشا کوئرالا کو 2012 میں اسٹیج فور اووریئن کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ علاج کے دوران انہیں 11 گھنٹے طویل سرجری اور کیموتھراپی کے کئی مراحل سے گزرنا پڑا، تاہم ایک سال بعد 2013 میں وہ اس موذی مرض کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئیں۔
اس کے بعد سے اداکارہ اپنی بیماری، صحت یابی اور زندگی کے بارے میں تبدیل ہونے والے نقطۂ نظر پر کھل کر گفتگو کرتی رہی ہیں۔
حالیہ انٹرویو میں منیشا کوئرالا نے کینسر کے سفر کے دوران محسوس ہونے والی شدید تنہائی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جس دن انہیں کینسر کی تشخیص کے بارے میں بتایا گیا، اسی رات شدید خوف اور تنہائی نے انہیں گھیر لیا تھا۔
اداکارہ کے مطابق اس وقت انہیں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ مرنے والی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینسر نے انہیں یہ احساس دلایا کہ ایک مریض کس قدر تنہا محسوس کر سکتا ہے، حتیٰ کہ انسان ہجوم میں موجود ہو کر بھی خود کو تنہا محسوس کرسکتا ہے۔
منیشا کوئرالا نے اپنی سماجی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بالی ووڈ کی تقریبات میں شرکت اور لوگوں کے درمیان گھلنے ملنے میں بھی انہیں دشواری محسوس ہوتی تھی، تاہم پیشہ ورانہ مصروفیات کے باعث وہ ایسی تقریبات میں شرکت کرتی رہیں۔
انہوں نے کینسر کے اس دور کو اپنی زندگی کا ’’انتہائی خوفناک اور تکلیف دہ‘‘ وقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات انسان حالات کو قبول کرنا سیکھ لیتا ہے، کیونکہ زندگی مختلف جذبات اور تجربات کا مجموعہ ہے۔
واضح رہے کہ منیشا کوئرالا کو آخری بار نیٹ فلکس کی سیریز ’’ہیرامنڈی‘‘ میں دیکھا گیا تھا، جہاں ان کی اداکاری کو خاصی پذیرائی ملی۔
اداکارہ نے حال ہی میں کھٹمنڈو میں منعقدہ این ڈی ٹی وی ورلڈ انوشکا سمٹ میں بھی شرکت کی، جہاں انہوں نے سیاست میں جنریشن زی کے کردار اور نوجوانوں کی ذمہ داریوں پر گفتگو کی۔
منیشا کوئرالا نے نوجوان نسل کی توانائی اور بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے کے جذبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا اپنے حکمران طبقے سے جواب طلب کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی ملک کو دانش اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ احتساب اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔



