حکومت کے مقررہ کرائے سے زائد وصولی کیخلاف طلبا کا احتجاج

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)سندھ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ٹرانسپورٹ کرایوں پر عملدرآمد نہ ہونے اور مسافروں سے زائد کرایے وصول کیے جانے کے خلاف مختلف جامعات میں زیرِ تعلیم طلبہ نے ڈپٹی کمشنر آفس بدین کے مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ٹرانسپورٹ مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا کراچی، حیدرآباد، نواب شاہ اور دیگر جامعات میں زیرِ تعلیم طلبہ، جن میں نثار احمد سومرو، غلام معین الدین، شاہد خان، رضوان علی اور دیگر شامل تھے، نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری کرایوں پر عملدرآمد کرانے کے بجائے ٹرانسپورٹ عملہ اپنی مرضی کے کرائے وصول کر رہا ہے جس کے باعث غریب مزدور طلبہ اور عام مسافر شدید مشکلات کا شکار ہیں مظاہرین کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ سیکریٹری ٹرانسپورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرانے کے بجائے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز مسافروں سے ناجائز اضافی کرایہ وصول کر رہے ہیں بعدازاں طلبہ نے ڈپٹی کمشنر بدین کو درخواست جمع کرانے کی کوشش کی تاہم ان کی عدم موجودگی کے باعث اسسٹنٹ کمشنر سے ملاقات کرکے انہیں یادداشت پیش کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سندھ حکومت کے محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اے سی بس کا کرایہ 3 روپے 80 پیسے فی کلومیٹر جبکہ اے سی وین کا کرایہ 3 روپے 50 پیسے فی کلومیٹر مقرر کیا گیا ہے جس کے تحت بدین سے کراچی کا کرایہ 802 روپے اور بدین سے حیدرآباد کا 385 روپے بنتا ہے تاہم ٹرانسپورٹرز حیدرآباد کے لیے 500 سے 550 روپے اور کراچی کے لیے 1400 سے 1500 روپے وصول کر رہے ہیں جو حکومتی احکامات کی صریحاً خلاف ورزی ہے درخواست میں مزید کہا گیا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی نہیں کی گئی جس کے باعث طلبہ مریض مزدور اور روزانہ سفر کرنے والے افراد پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے احتجاجی طلبہ نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سرکاری کرایوں پر فوری عملدرآمد یقینی بنائیں اور زائد کرایے وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے

مزید خبریں

Back to top button