ملک میں ظالمانہ نظام وقیادت کی تبدیلی سے ہی سندھ کے عوام کی قسمت تبدیل ہوسکتی ہے،کاشف سعیدشیخ

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ ملک میں ظالمانہ نظام وقیادت کی تبدیلی سے ہی سندھ کے عوام کی قسمت تبدیل ہوسکتی ہے،بدل تونظام تحریک میں عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔سندھ میں پانی کی کمی بھارتی آبی دہشتگردی کا نتیجہ ہے تودوسری طرف سندھ کواپنے حصہ کاپانی نہیں دیاجارہاجبکہ دستیاب پانی پر ظالم وڈیرہ شاہی طاقت ودولت کی بنیاد پرچھوٹے کاشتکاروں کے حق پرڈاکہ ڈال رہے ہیں ۔پانی کی منصفانہ تقسیم سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ سندھ آج بھی تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کے شعبوں میں شدید پسماندگی کا شکار ہے جو صوبائی حکومت کی ناقص حکمرانی اور عوامی مسائل سے عدم دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔ پٹرول گیس بجلی سمیت سندھ کے عوام کو اپنے وسائل کا حق نہیں مل رہا، جس کے باعث غربت، بے روزگاری، بھوک اور محرومی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے دورہ بدین کے موقع پر میڈیا سے بات چیت اورتنظیمی اجلاس سے خطاب کے دروان کیا۔س موقع پر جماعت اسلامی سندھ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری الطاف احمد ملاح ،ضلعی امیر سیدعلی مردان شاہ گیلانی جنرل سیکرٹری عبدالکریم بلیدی نائب امیر ضلع اللہ بچایوہالیپوتہ بھی موجود تھے۔صوبائی امیرکا مزید کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے سندھ کو تیل، گیس، کوئلہ، معدنیات، زرخیز زرعی زمینوں، سمندری وسائل اور قدرتی توانائی سمیت بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، مگر افسوس کہ ان وسائل کا فائدہ عام شہری تک نہیں پہنچ رہا۔ گزشتہ اٹھارہ برس سے برسراقتدار پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت سندھ کی تعلیمی، معاشی اور سماجی ترقی کے لیے مو¿ثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سندھ پاکستان کو سب سے زیادہ ریونیو، ٹیکس اور برآمدات فراہم کرنے والا صوبہ ہے۔ ملکی تیل کے ذخائر کا تقریباً 60 فیصد اور قدرتی گیس کے ذخائر کا تقریباً 70 فیصد سندھ میں موجود ہیں، جبکہ تھر کے کوئلے کے وسیع ذخائر ملک کی توانائی ضروریات کو طویل عرصے تک پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح ٹھٹھہ اور بدین کے ساحلی علاقوں میں ونڈ انرجی کے بہترین مواقع موجود ہیں، جہاں ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، مگر حکومتی نااہلی کے باعث یہ وسائل عوام کی فلاح کے لیے استعمال نہیں ہو رہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف قومی اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق سندھ میں لاکھوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ ہزاروں خاندان ایسے ہیں جن کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ وسائل کی فراوانی کے باوجود عوام کا اس حال میں ہونا حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔صوبائی امیر نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے وسائل پر پہلا حق سندھ کے عوام کا تسلیم کیا جائے، بند اسکول فوری طور پر فعال کیے جائیں، تمام تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، اور تعلیم، صحت، زراعت، آبپاشی، توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر شفافیت، دیانتداری اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے تو سندھ نہ صرف پاکستان کا خوشحال ترین صوبہ بن سکتا ہے بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی اور خوشحالی کی مثال بھی قائم کر سکتا ہے

مزید خبریں

Back to top button