برطانیہ میں4سال تک بچی کو زیادتی کانشانہ بنانے والے 15جنسی درندوں کو188سال قیدکاحکم

لندن(جانوڈاٹ پی کے)برطانیہ میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی، تشدد اور استحصال میں ملوث 15 مجرموں کو مجموعی طو پر188سال قید کی سزا سنادی گئی۔ویسٹ یارکشائر پولیس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بریڈ فورڈ میں ایک کمسن لڑکی (جو اس وقت 14 سے 18 سال کے درمیان تھی) کو جنسی زیادتی اور استحصال کا نشانہ بنانے والے15 مجرموں کو مجموعی طور پر188سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
متاثرہ بچی کے ساتھ یہ گھناؤنا جرم2007سے2011کے دوران مسلسل انجام دیا جاتا رہا تھا تاہم2015میں اس کے بارے میں پہلی بار پولیس کو کچھ اشارے ملے اور اگلے ہی برس باضابطہ کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔گزشتہ دو برسوں سے ان15جنسی درندوں کے خلاف جاری عدالتی کارروائی کے بعد اب جج نے ملزمان کے ناموں اور سزا کی تفصیلات پبلک کرنے کی اجازت دیدی ہے۔
ملزمان سے تفتیش کئی سال جاری رہی اور شواہد جمع کرنے، گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے اور مختلف ملزمان کے خلاف مقدمات چلانے کے بعد عدالت نے متعدد سماعتوں اور الگ الگ ٹرائلز کے ذریعے فیصلہ سنایا۔عدالتی کارروائی کے دوران رپورٹنگ پر پابندیاں عائد تھیں تاکہ مقدمات کی شفافیت متاثر نہ ہو۔ بدھ کے روز جج نے یہ پابندیاں ختم کرتے ہوئے سزاؤں کی تفصیلات جاری کرنے کی اجازت دی۔عدالت نے تمام ملزمان کو سنگین جنسی جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 8 سے 17 سال تک قید کی مختلف سزائیں سنائیں۔ مجموعی طور پر یہ سزائیں 188 سال بنتی ہیں۔متاثرہ خاتون نے فیصلے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ اس کے بچپن اور نوجوانی پر ان واقعات کے گہرے اثرات مرتب ہوئے اور یہ زخم زندگی بھر اس کے ساتھ رہیں گے۔بریڈفورڈ پولیس کی سینئر تفتیشی افسر وکی گرین بینک نے بتایا کہ متاثرہ خاتون نے غیر معمولی جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی ناقابل قبول ہے۔
کیس کی مختصر تاریخ
پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی 2007 سے 2011 کے درمیان بریڈفورڈ میں جنسی استحصال کا شکار رہی۔ اس دوران اس کی عمر 14 سے 18 سال کے درمیان تھی۔ لڑکی متعدد بار گھر سے لاپتا ہوئی تاہم اس وقت ان واقعات کو مکمل طور پر منظم جنسی استحصال سے نہیں جوڑا جا سکا۔2015 میں ویسٹ یارکشائر پولیس نے پرانے "مسنگ پرسن” ریکارڈز اور بچوں کے استحصال سے متعلق فائلوں کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کیا۔ اسی دوران پتا چلا کہ مذکورہ خاتون 2007 سے 2011 کے درمیان بار بار لاپتا ہوئی تھیں۔پولیس کو شبہ ہوا کہ یہ بچی ماضی میں کسی گینگ کے ہتھے چڑھ گئی ہو گئی۔ جس کی تصدیق کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا جو اب ادھیڑ عمر خاتون ہیں۔متاثرہ خاتون نے بتایا کہ انھیں اسی گینگ کے لوگ بار بار گھر سے لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ اس بیان کے بعد فروری 2016 میں باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔تفتیش کاروں نے کئی برس پرانے پولیس ریکارڈز، موبائل فون ڈیٹا، گواہوں کے بیانات اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ متاثرہ لڑکی کو مختلف اوقات میں متعدد افراد نے نشانہ بنایا تھا۔پولیس کے مطابق یہ ایک پیچیدہ اور طویل تفتیش تھی کیونکہ واقعات کئی سال پہلے پیش آئے تھے اور ملزمان مختلف مقامات پر رہائش پذیر تھے۔ اس کے باوجود تفتیشی ٹیم نے شواہد کو جوڑ کر ملزمان کے خلاف مضبوط مقدمات تیار کیے۔تحقیقات مکمل ہونے کے بعد متعدد افراد پر فرد جرم عائد کی گئی۔ چونکہ ملزمان کی تعداد زیادہ تھی اور الزامات بھی مختلف نوعیت کے تھے، اس لیے تمام ملزمان کا ایک ہی وقت میں ٹرائل ممکن نہیں تھا۔اسی وجہ سے مقدمہ مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا اور گزشتہ دو برس کے دوران متعدد الگ الگ ٹرائلز منعقد ہوئے۔ ہر ٹرائل میں جیوری نے شواہد اور گواہوں کا جائزہ لیا گیا۔عدالت نے مقدمات کے دوران رپورٹنگ پر پابندی عائد رکھی تاکہ ایک ٹرائل کی میڈیا کوریج دوسرے مقدمات پر اثرانداز نہ ہو اور تمام ملزمان کو منصفانہ سماعت کا حق حاصل رہے۔



