ٹیلی کام ٹاورز کو لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دینے کی تیاری، وفاقی حکومت نے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)ملک بھر میں طویل لوڈشیڈنگ کے باعث ٹیلی کام سروسز متاثر ہونے کے بعد وفاقی حکومت نے ٹیلی کام ٹاورز کو لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دینے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) حکام کے مطابق مختلف اضلاع میں 14، 14 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے باعث موبائل اور ٹیلی کام سروسز میں شدید تعطل پیدا ہو رہا ہے، حالانکہ ٹیلی کام کمپنیاں بجلی کے بل سو فیصد ادا کر رہی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کی سربراہی میں قائم کمیٹی آکشن ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں تشکیل دی گئی ہے، جبکہ اس میں نیپرا، پاور ڈویژن اور ٹیلی کام انڈسٹری کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
کمیٹی ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لے گی، جن میں گرڈ اسٹیشن سے فیڈر بند ہونے کی صورت میں ٹیلی کام ٹاورز کو علیحدہ بجلی کی فراہمی اور انہیں صنعتی بجلی کے ٹیرف کی کیٹیگری میں شامل کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
وزارت آئی ٹی کی جانب سے یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو اپنے ٹاورز پر سولر سسٹم نصب کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ بجلی کی طویل بندش کے دوران بھی سروسز جاری رہ سکیں۔
کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر اپنی جامع سفارشات اور رپورٹ وفاقی حکومت کو پیش کرے۔
پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں تین سے چار گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے دوران بیک اپ نظام کے ذریعے سروس برقرار رکھ سکتی ہیں، تاہم کئی علاقوں میں 14 گھنٹے تک بجلی کی بندش کے باعث جنریٹرز کے ذریعے سروسز چلانا ممکن نہیں رہا، اس لیے ٹیلی کام ٹاورز کو فوری طور پر لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس موقع پر کہا کہ بعض علاقوں میں امن و امان کی خراب صورتحال بھی ٹیلی کام سروسز کی متاثر ہونے کی ایک اہم وجہ ہے۔



