86لوڈر رکشے،48ہزار لیٹر پیٹرول!ملتان ویسٹ منیجمنٹ کی آڈٹ رپورٹ نے بھونچال مچا دیا

ملتان (جانو ڈاٹ پی کے)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری کے اجلاس میں ملتان ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کی مالی سال 2023-24 کی آڈٹ رپورٹ نے ایندھن کے استعمال اور مختلف ادائیگیوں سے متعلق سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کردی۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق صرف 86 لوڈر رکشوں کے لیے 48 ہزار سے زائد لیٹر پیٹرول استعمال کیے جانے کا ریکارڈ سامنے آیا، تاہم ملتان ویسٹ منیجمنٹ کمپنی ایندھن کے استعمال سے متعلق مطلوبہ دستاویزی ثبوت پیش نہ کرسکی۔

رپورٹ کے مطابق کمپنی 181 ملین روپے کی ادائیگیوں کے دستاویزی شواہد بھی فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ اسی طرح کرایہ پر مشینری حاصل کرنے کے نام پر بھی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی، جہاں رینٹ کی مد میں 6 کروڑ 82 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں، جبکہ ایک کروڑ 86 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگیوں کو مشکوک قرار دیا گیا۔

آڈٹ رپورٹ میں ملازمین کی تنخواہوں سے انشورنس کی مد میں کی جانے والی کٹوتیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ 65 لاکھ روپے کی کٹوتی کے حوالے سے بھی مطلوبہ ثبوت دستیاب نہیں تھے۔

اجلاس کے دوران چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی احمد اقبال نے سوال اٹھایا کہ 86 رکشوں پر اتنی بڑی مقدار میں پیٹرول کیسے خرچ ہوسکتا ہے؟ آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والے اعتراضات نے کمپنی کے مالی معاملات اور ریکارڈ کی شفافیت سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button