میرپورخاص:27ویں آئینی ترمیم کیخلاف وکلا کا عدالتی بائیکاٹ، سائلین شدید پریشان

میرپورخاص (شاھدمیمن) 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے خلاف سندھ ہائیکورٹ بینچ اور ماتحت عدالتوں کی کارروائی کا دوسرے روز بھی مکمل بائیکاٹ کیا، سرکٹ بینچ اور ماتحت عدالتوں میں معمول کی کارروائی نہیں کی جا سکی جس کے باعث پیشیوں پر آنے والے سائلین، خواتین، بزرگ شہریوں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کے دوران وکلاء نے بار روم کے باہر وکلاء نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میرپورخاص کے صدر میر پرویز اختر تالپور، جنرل سیکریٹری عبدالغفار ناریجو، ابوالحسن اور دیگر نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کو آئین، عدلیہ اور عوامی حقوق پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی مقررین نے کہا کہ 27 ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے اختیارات محدود کرنے اور انصاف کی فراہمی کے نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے ہر سطح پر جدوجہد جاری رہے گی وکلاء رہنماؤں نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے متنازع ترمیم واپس نہ لی تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا وکلاء نے ہائیکورٹ بار کی قیادت کو غیر متزلزل جدوجہد جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ کسی بھی غیر آئینی اقدام کے سامنے دیوار بن کر کھڑے رہیں گے۔

مزید خبریں

Back to top button