بدین میں لیڈی ہیلتھ ورکرزکابڑااحتجاجی مظاہرہ

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ پی کے)محکمہ صحت کی پرائمری صحت کی سہولیات کوپی پی ایچ آئی کے حوالے کرنے کے حکومتی فیصلے کیخلاف لیڈی ہیلتھ ورکرز نے بدین میں بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو کراچی میں بلاول ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا

تفصیلات کے مطابق آل سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز اینڈ ایمپلائز یونین کی مرکزی صدر حلیمہ لغاری ذوالقرنین کی اپیل پر بدین ضلع کی سینکڑوں لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سپروائزرز نے بدین پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے اپنی ملازمتوں کے تحفظ، مستقل حیثیت برقرار رکھنے اور آئینی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا احتجاج کی قیادت تنظیم کی مرکزی انفارمیشن سیکریٹری خالدہ جمالی (LHS)، ضلعی صدر رخسانہ جمالی (LHW) اور خدیجہ جمالی (LHS) نے کی، جبکہ ضلع کے مختلف تعلقوں سے بڑی تعداد میں لیڈی ہیلتھ سپروائزرز اور ورکرز نے شرکت کی اس موقع پر رہنماؤں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کئی دہائیوں سے سندھ کے دور دراز، پسماندہ اور ساحلی علاقوں میں ماں اور بچے کی صحت، حفاظتی ٹیکہ جات، پولیو مہم اور کورونا جیسی وباؤں کے دوران فرنٹ لائن پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں

انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے عوام دوست وژن کا حصہ تھا، اس لیے سرکاری ملازمین کو ایک کنٹریکٹ پر مبنی ادارے کے حوالے کرنا ان کے آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا رہنماؤں نے مزید بتایا کہ محکمہ صحت اور PPHI سندھ کے درمیان یکم جولائی 2026ء کو ہونے والے معاہدے کے تحت صوبے کی باقی پرائمری ہیلتھ کیئر سہولیات، جن میں بنیادی مراکز صحت (BHUs)، ڈسپنسریاں اور دیگر یونٹس شامل ہیں، مرحلہ وار PPHI کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے صحت کا نظام مزید مؤثر ہوگا، تاہم لیڈی ہیلتھ ورکرز اس فیصلے کو اپنی ملازمتوں اور مستقل حیثیت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتی ہیں

مظاہرین نے حکومت اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ فیصلہ فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو سندھ بھر کی لیڈی ہیلتھ ورکرز کراچی پہنچ کر بلاول ہاؤس کے سامنے بڑا اور فیصلہ کن دھرنا دیں گی انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں پیدا ہونے والے کسی بھی انتظامی یا طبی بحران کی مکمل ذمہ داری حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ملازمت، مستقبل اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن اور جمہوری جدوجہد ہر حال میں جاری رکھیں گی۔

مزید خبریں

Back to top button