خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ پر بڑا تنازع، گورنر فیصل کریم کنڈی نے مجوزہ قانون کو غیر آئینی قرار دے دیا

پشاور (جانو ڈاٹ پی کے) خیبرپختونخوا میں پولیس ایکٹ 2026 میں مجوزہ تبدیلیوں پر سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا، گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبائی کابینہ سے منظور کیے گئے مجوزہ پولیس ایکٹ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون ان کے پاس منظوری کے لیے آیا تو اس کا جائزہ لیا جائے گا اور غیر آئینی شقیں ہوئیں تو اعتراض کیا جائے گا

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ان کے پاس ایکٹ آنے کے بعد وہ اس کا جائزہ لیں گے، اگر اس میں کوئی چیز غیر آئینی ہوئی تو اسے منظور نہیں کریں گے اور اعتراض اٹھائیں گے۔

گورنر نے کہا کہ تحریک انصاف کا مؤقف رہا ہے کہ پولیس غیر سیاسی ہونی چاہیے، تاہم ان کے بقول مجوزہ قانون کے ذریعے پولیس کے معاملات میں صوبائی حکومت کا اختیار بڑھایا جا رہا ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ وہ پولیس کو کسی سیاسی فورس میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر ہو یا وزیراعلیٰ، کسی کی جانب سے بھی غلط اقدام نہیں ہونا چاہیے۔

خیبرپختونخوا کابینہ نے 23 ستمبر کو پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے کی منظوری دی ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت وفاقی حکومت آئی جی کے لیے تین نام صوبائی حکومت کو بھیجے گی اور صوبائی حکومت ان میں سے ایک افسر کا انتخاب کرے گی۔ موجودہ طریقہ کار میں صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق کو تین نام بھیجے جانے کی ترتیب تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ ایکٹ میں آئی جی کی تعیناتی کا اعلامیہ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کرنے، آئی جی کی کارکردگی سے صوبائی حکومت مطمئن نہ ہونے کی صورت میں وفاق سے مزید نام طلب کرنے اور بعض اعلیٰ پولیس افسران کے تبادلوں کے اختیارات میں تبدیلی کی تجاویز بھی شامل ہیں

گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے قانون کی منظوری نہیں دیں گے جسے وہ غیر آئینی یا غیر قانونی سمجھتے ہوں، تاہم حتمی فیصلہ ایکٹ ان کے پاس منظوری کے لیے آنے کے بعد اس کے متن کا جائزہ لینے پر ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button