بلدیاتی الیکشن ہونے چاہئیں!خواجگان سرتسلیم خم،اگرمگرچونکہ چنانچہ،ٹویٹر پرپیپلزپارٹی اورن لیگ آمنے سامنے’’ٹویٹروٹویٹری‘‘ہوگئے

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق نے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کے مطالبے کو درست قرار دیتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ بلدیاتی الیکشن ہونے چاہئیں،خواجگان نے جہاں اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کے بلاول بھٹو زرداری کے مطالبے کو تسلیم کیا وہیں انہوں نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات پر انگلیاں بھی اٹھائیں،خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق کی ٹویٹ کے بعد ٹویٹر پر پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان لفظی گولہ باری شروع ہوگئی بلکہ یوں کہئے دونوں’’ٹویٹرو ٹویٹری‘‘ہوگئے۔خواجگان کے بلدیاتی نظام کو تسلیم کرنے اور پھرآئیں بائیں شائیں کے اعتراضات کو ٹویٹر پر خوب تنقیدکا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
گر تُو بُرا نہ مانے ۔۔۔۔
بات بلدیاتی انتخابات کی ھو تو جناب بلاول بھٹو کا مطالبہ درست ھے
لاھور اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات جلد از جلد ھونے چاھئیں ۔۔
لیکن کراچی کے پچھلے بلدیاتی انتخابات کے سٹائل پر الیکشن کروانے سے انتخابات نہ کروانا بہتر ھو گا
پلیز !!…
— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) June 24, 2026
پلیز!! کراچی جیسا بلدیاتی نظام لاہور میں نافذ نہ کریں،خواجہ سعد رفیق
سابق وفاقی وزیر ریلوے اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ بلدیاتی انتخابات کی بات کی جائے تو جناب بلاول بھٹو کا مطالبہ درست ہے۔لاہور اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات جلد سے جلد کرائے جائیں۔لیکن کراچی کے گزشتہ بلدیاتی انتخابات کی طرز پر انتخابات کرانا بہتر ہو گا کہ مکمل طور پر منسوخ کر دیا جائے۔پلیز!! کراچی جیسا بلدیاتی نظام لاہور میں نافذ نہ کریں،اگر کسی کو تفصیلات چاہیں تو حافظ نعیم الرحمن صاحب یا خالد مقبول صدیقی صاحب سے پوچھ لیں۔
پنجاب میں بلدیاتی نظام لانے میں غیر ضروری تاخیر کی گئی،رضا ہارون
خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف کے ٹویٹ کے ردعمل میں رضاہارون نے جوابی ٹویٹ لکھا کہ مجھے یاد ہے کہ2008کے بعد جب نئی حکومت برسراقتدار آئی تو مشرف دور کے نسبتاً مضبوط اور بااختیارلوکل گورنمنٹ سسٹم کو فوری طور پر ختم کر دیا گیا سوائےسندھ کے,پنجاب میں، یہ فیصلہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے کہنے پر کیا گیا تھا، جب کہ صدر زرداری نے ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر سندھ میں فروری2010تک اس نظام کو برقرار رکھا، حالانکہ اس کی آئینی مدتاگست2009میں ختم ہو چکی تھی۔پنجاب میں اس کے بعد کوئی بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے، حالانکہ نظام منتظمین کے ذریعے چلتا رہا۔ بظاہر اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اس وقت صوبائی حکومت مقامی ترقیاتی منصوبوں کا سیاسی کریڈٹ خود لینا چاہتی تھی۔ یاد رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کے دور اور اس وقت کے میئرز کی کارکردگی کو عام طور پر کافی سراہا جاتا تھا۔اس کے بعد پنجاب میں یا تو نیا بلدیاتی قانون لانے میں غیر ضروری تاخیر کی گئی یا پھر مجوزہ قوانین کو اتنا متنازع بنا دیا گیا کہ بلدیاتی انتخابات زیادہ دیر تک نہ ہوسکے۔ بالآخر 2015 میں انتخابات ہوئے۔ منتخب مقامی حکومتیں 2016 سے 2018 تک چلتی رہیں اور پھر 2019 میں انہیں غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر تحلیل کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے آج تک، مقامی حکومتوں کی قانون سازی، انتخابات کی تاریخوں کے اعلانات، اور مختلف تاخیری حربوں نے اس عمل کو مسلسل ملتوی کر رکھا ہے۔
دوسری جانب سندھ کو بھی مسائل اور قانونی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا لیکن بالآخر وہاں بلدیاتی انتخابات2015اور پھر2022-23میں ہوئے۔2015میں کراچی میں ایم کیو ایم کے میئر نے اپنی پوری مدت پوری کی جبکہ موجودہ بلدیاتی نمائندے یعنی پاکستان پیپلز پارٹی کے میئرآپنی آئینی مدت پوری کرنے کے قریب ہیں۔
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے یا منتخب اداروں کے قیام کے جواز کے طور پر استعمال کرنا ایک کمزور دلیل ہے،رضا ہارون
آج بھی، آئین کا آرٹیکل 140A واضح طور پر صوبائی حکومتوں کو مقامی حکومتوں کی قانون سازی، انتخابات کے انعقاد اور منتخب مقامی حکومتوں کے قیام کا پابند کرتا ہے۔ یقیناً سندھ کے بلدیاتی نظام میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اور ہمیشہ رہے گی لیکن اسے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے یا منتخب اداروں کے قیام کے جواز کے طور پر استعمال کرنا ایک کمزور دلیل ہے۔ پورے احترام کے ساتھ، یہ نقطہ نظر نہ صرف جمہوری اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اقتدار اور اختیار کی منتقلی کے تصور کے بھی خلاف ہے، اور اس سے مرکزیت کا تاثر ملتا ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا موقف قابل غور ہے،رضا ہارون
اس تناظر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا موقف قابل غور ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر اسلام آباد اور لاہور میں ایک موثر اور بااختیار بلدیاتی نظام متعارف کرایا جائے، میئرز کو حقیقی اختیارات دیے جائیں تو کراچی اور دوسرے بڑے شہروں کے منتخب نمائندوں کو بھی وہی اختیارات ملنے چاہئیں۔ ان کا یہ طنز دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ تھا کہ جو جماعت اپنے صوبے اور وفاقی دارالحکومت میں موثر بلدیاتی نظام قائم نہیں کر سکی اس کے پاس اس معاملے پر دوسروں کو مشورہ دینے کی اخلاقی یا سیاسی حیثیت کا فقدان ہے۔
پنجاب میں بلدیاتی نظام بھلے ہی کمزور رہا ہو لیکن اگر اس کا تسلسل برقرار رکھا جاتا تو وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری اور استحکام آ سکتا تھا۔ چاہے آپ اسے پسند کریں یا نہ کریں، اس سے قطع نظر کہ دوسرے صوبوں میں کیا ہو رہا ہے یا کوئی اور جماعت کیا سوچتی ہے، بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہ کرنا پنجاب حکومت کا ایک غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر جمہوری عمل ہے، جس کا دفاع کرنا مشکل ہے۔
مسلم لیگ(ن) کے رہنما اور خواجہ آصف نے رضا ہارون کے ٹویٹ کے جواب الجواب میں کہا ہمیں یقینی طور پر مقامی حکومتوں کے انتخابات کروانے چاہئیں،یہ ضروری ہے. تاہم ان انتخابات کے نتیجے میں ایسے اداروں کے وجود میں آنے کی ضرورت ہے جو بااختیار ہوں جس کا انحصار صوبائی حکومتوں پر نہیں ہے جس میں میئر اور نمائندے بلدیاتی نظام کی نذر نہیں ہوتے۔ جو عوام کے ووٹ کی قدر و قیمت کو سمجھے ورنہ اس فضول گناہ کی کوئی ضرورت نہیں۔
ھمیں بلدیاتی انتخاب ضرور کرانے چاہئیں لازم ھے۔ مگر ان انتخابات کے نتیجے میں ایسے ادارے وجود میں آنے کی ضرورت ھے جو با اختیار ھوں۔ جو صوبائی حکومتوں کے مرہون منت نہ ھوں۔ جسمیں مئیر اور نمائندے بلدیاتی نظام پہ تہمت نہ ھوں۔ عوام کے ووٹ کی قدروقیمت سمجھتے ھوں ۔ ورنہ اس گناہ بے لذت… https://t.co/WnqmEdYzCN
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) June 24, 2026
لاہور والے جب بار بار “کراچی کراچی” کرتے ہیں تو سمجھ لو کراچی سے مطلب نہیں بلکہ بلاول بھٹو زرداری کی مقبولیت کا ڈر ہے،وقاص یوسف سومرو
سیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلز پارٹی ضلع نوشہروفیروز وقاص یوسف سومرو نے اپنے ٹویٹ میں لکھالاہور والے جب بار بار “کراچی کراچی” کرتے ہیں تو سمجھ لو کہ انہیں کراچی سے مطلب نہیں بلکہ ملک میں بلاول بھٹو زرداری کی مقبولیت کا ڈر ہے کے کہیں لاہور اور اسلام آباد میں بھی گلگت بلتستان والے رزلٹ نہ آجائیں۔ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف صاحب، لاہور میں بلدیاتی نظام لانے کی بات تو کر رہے ہیں مگر “کراچی جیسا نہ ہو”کہہ کر بہانے بنا رہے ہیں۔اصل حقیقت یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت سے گھبرا گئے ہیں۔
لاہور والے جب بار بار “کراچی کراچی” کرتے ہیں تو سمجھ لو کہ انہیں کراچی سے مطلب نہیں بلکہ ملک میں @BBhuttoZardari کی مقبولیت کا ڈر ہے کے کہیں لاہور اور اسلام آباد میں بی گلگت بلتستان والے ریزلٹ نہ اجائیں !
خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف صاحب، لاہور میں بلدیاتی نظام لانے کی بات تو… https://t.co/N2GgOo0Be9
— Waqas Y. Soomro (@waqas_yousif) June 25, 2026
دوسری طرف سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے بھی خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف کے ٹویٹ پر ردعمل میں کہا کہ ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے موقف کی تائید کرتے ہوئے آپ نے درحقیقت اپنی ہی قیادت کی ناکامی کا اعتراف کر لیا ہے کہ پنجاب میں بروقت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد آپ کی قیادت کی ناکامی ہے۔
آپ نے ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے دراصل اپنی ہی قیادت کی ناکامی کا اعتراف کر لیا کہ پنجاب میں بروقت بلدیاتی انتخابات نہ کروانا آپ کی قیادت کی ناکامی ہے۔
اگر واقعی آپ ہمارے چیئرمین کی بات سے اتفاق کرتے ہیں تو ان کی ایک اور تجویز بھی تسلیم کر لیجیے۔… https://t.co/9FEwyvnDh7
— Sadiajaved (@Sadiajavedppp) June 25, 2026
سعدیہ جاوید نے مزید کہا کہ اگر آپ واقعی ہمارے چیئرمین کی بات سے متفق ہیں تو ان کی ایک اور تجویز کو بھی قبول کریں۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے فلور پر واضح طور پر کہا کہ اسلام آباد میں ایک بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے جسے پورا پاکستان ایک ماڈل کے طور پر اپنا سکے، جہاں اختیارات، وسائل اور فیصلے حقیقی طور پر منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں ہوں۔



