کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی ہولناک چال، پرانےخونی مہرے دوبارہ بساط پر سجانے کی تیاریاں!

کراچی: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) روشنیوں کے شہر کراچی کو سندھ سے کاٹ کر وفاق کے حوالے کرنے کی ایک انتہائی خوفناک اور گہری سازش کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تانے بانے ماضی کے ان خونی اور خطرناک کرداروں سے مل رہے ہیں جو شہر میں لسانی منافرت پھیلانے اور قتل و غارت گری میں ملوث رہے ہیں۔ انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق اس مکروہ ایجنڈے کو پروان چڑھانے کے لیے پرانے سیاسی کھلاڑیوں اور کچھ مخصوص صحافتی حلقوں کو ایک بار پھر سرگرم کر دیا گیا ہے جو منظم پروپیگنڈے کے تحت کراچی کے عوام کے ذہنوں میں زہر گھول رہے ہیں۔ اس تشویشناک صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار امداد سومرو نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی کی سڑکوں کی خراب حالت کا بہانہ بنا کر شہر کو سندھ سے الگ کرنے کی مہم دراصل صوبے میں ایک نیا لسانی اور نسلی تصادم پیدا کرنے کی گہری سازش ہے۔ ماضی میں ایم کیو ایم کے بانی پر ‘را’ کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگانے والے سابق میئر مصطفیٰ کمال اب خود سینیئر اینکر کامران خان کے ساتھ مل کر اسی ایجنڈے کو ہوا دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی بیڈ گورننس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شہر کو بندوق برداروں کے حوالے کر دیا جائے جنہوں نے ماضی میں کراچی کو مقتل گاہ بنا دیا تھا۔ دوسری جانب عسکری قیادت نے بھی واضح کیا ہے کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے فتنہ پرور عناصر کے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
صحافی امداد سومرو کا یہ سنسنی خیز اور حقائق پر مبنی وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے ویڈیو لنک پر کلک کریں:




