نومبر میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے کا امکان، اے پی سی پر مشاورت ہوگی، کامران مرتضیٰ

اسلام آباد(جانو ڈاٹ پی کے)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ آنے والے چند ہفتے سیاسی اعتبار سے انتہائی اہم دکھائی دے رہے ہیں جبکہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بھی زیرِ غور ہے۔

 پی ڈی ایم کے دورِ حکومت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر اس دور کے معاملات سامنے لے آئے جائیں تو متعلقہ افراد کے لیے وضاحت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اپنی کابینہ کے اجتماعی فیصلوں کا ذمہ دار ہوتا ہے، اس لیے اگر کسی معاملے کی تحقیقات نیب میں ہونی چاہئیں تو اس وقت کے وزیراعظم اور کابینہ کے کردار کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔

خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے جے یو آئی رہنما نے سوال کیا کہ کیا ان کی موجودگی میں مولانا فضل الرحمان کی جانب سے گورنرشپ میں حصہ مانگنے کا کوئی مطالبہ کیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے خواجہ آصف سے براہِ راست وضاحت طلب کی جانی چاہیے۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ان کی جماعت فوج کا احترام کرتی ہے اور ملک سے باہر بیٹھ کر اداروں کے خلاف بات نہیں کرتی۔ مذہب کے نام پر کمائی کے الزامات کے حوالے سے انہوں نے سوال اٹھایا کہ نواز شریف، وزیراعظم اور آصف زرداری مولانا فضل الرحمان کے پاس کس مقصد کے لیے آتے رہے ہیں۔

کشمیر کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی شناخت اور کردار پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں مولانا فضل الرحمان کی کوششوں سے کشمیر کا معاملہ نمایاں رہا، جبکہ اب راولاکوٹ میں بھی آزادی کی باتیں ہو رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت کسی مشکل کو دعوت نہیں دیتی، تاہم اگر کوئی مشکل پیش آئی تو اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔ جیلوں اور مقدمات سے متعلق ان کے بیان میں بھی سیاسی مخالفین پر تنقید شامل تھی۔

مزید خبریں

Back to top button