پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا جاری، حکومت سے مذاکرات بھی ہوں گے، حافظ نعیم

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے دھرنے موخر کرنے کی درخواست کی ہے تاہم دھرنے بھی جاری رہیں گے اور مذاکرات بھی ہوں گے۔

حکومتی مذاکراتی وفد نے منصورہ میں حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی۔ وفد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، رانا ثنا اللہ اور خواجہ سلمان رفیق شامل تھے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے دھرنا کسی ذاتی ایجنڈے کے لیے نہیں دیا، آج دھرنوں کا 19واں دن ہے اور مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم لیوی ختم، پٹرول کی قیمت کم اور روٹی سستی کی جائے۔

امیر جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے اپنے ہدف سے زیادہ پٹرولیم لیوی کی مد میں 100 ارب روپے جمع کیے، جبکہ بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود کیپسٹی پیمنٹس وصول کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے آئی پی پیز کے معاہدوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ملک میں بدامنی سے دشمن فائدہ اٹھائے۔ عوامی اور سیاسی اجتماعات کو تخریب کار اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت پٹرولیم لیوی کے حوالے سے جماعت اسلامی کی تجاویز سنے گی اور جماعت اسلامی سے ماہرین کی ٹیم تشکیل دے کر مذاکرات کرنے کی درخواست کی۔

وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایران جنگ کے باعث عام آدمی پر بوجھ پڑا ہے، جبکہ جماعت اسلامی کا مقصد بھی عام آدمی کو ریلیف دلانا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے مذاکرات کے لیے لیاقت بلوچ کی سربراہی میں کمیٹی بھی تشکیل دے دی۔

مزید خبریں

Back to top button