بیوی کا شوہر پر تشدد،کیا خاتون کوئی کمانڈو ہے؟جج،عدالت میں قہقہے

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوہر پر تشدد کرنے والی خاتون کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ دوران سماعت جج کے خاتون کے کمانڈو ہونے سے متعلق سوال پر عدالت میں قہقے گونج گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوہر پر تشدد کے الزام میں گرفتار خاتون کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
درخواست گزار کے وکیل نےدلائل دیے اگر عورت نے غصے میں مارا بھی ہے تو وہ گھر کی مالک ہے۔تفتیشی افسر نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ خاتون کا دماغی توازن چیک نہیں کرایا گیا ۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے اپنے شوہر پر تشدد کے مقدمہ میں گرفتار خاتون آمنہ سعید کی ضمانت کے لیے ان کے والد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔
مدعی مقدمہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خاتون نے اپنے ہی شوہر پر 3 مرتبہ تشدد کیا، جسم پر تشدد کے نشانات موجود ہیں۔ خاتون سے لوہے کا راڈ برآمد ہوا ہے، باقاعدہ تیار کر کے رکھا ہوا تھا۔
جسٹس سومرو نے کہا یہ رپورٹ ہونے والا کیس ہے کہ ایک فورس کے بندے کو خاتون نے مارا ہے، کیا یہ خاتون کوئی کمانڈو ہے؟
درخواست گزار کے وکیل نے کہا اگر عورت نے غصے میں مارا بھی ہے تو وہ گھر کی لارڈشپ ہے۔ خاتون نے فلاسفی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، بہت سارے ایسے فیملی ایشوز ہیں جو عدالت ڈسکس نہیں کرنا چاہتے۔
عدالت نے استفسار کیا مارنے کے بعد بیوی خود گاڑی میں اسپتال بھی لے کر گئی؟ مدعی کے وکیل نے مزید بتایا کہ خاتون نے شوہر کے ساتھ دو بچیوں پر بھی تشدد کیا ہے۔
پی ایچ ڈی کے علاوہ خاتون اور کیا کام کرتی ہیں؟ جب اس خاتون کو گرفتار کیا تو اس خاتون کا دماغی توازن چیک کروایا؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا ہم نے خاتون کا دماغی توازن چیک نہیں کروایا۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا



