امریکی ریزروسٹ کو کھدائی کے دوران 6.03 قیراط کا قیمتی ہیرا مل گیا

نیو یارک (ویب ڈیسک) امریکی ریاست آرکنساس میں امریکی بحریہ کے ایک ریزروسٹ نے کھدائی کے دوران 6.03 قیراط کا ہیرا دریافت کرلیا، جس کی ممکنہ قیمت کے حوالے سے مختلف اندازے سامنے آئے ہیں۔
جیک پیراڈن گزشتہ 12 برس سے زائد عرصے سے شوقیہ طور پر پتھروں اور قیمتی جواہرات کی تلاش میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق اس مشغلے سے انہیں کبھی کوئی نمایاں مالی فائدہ حاصل نہیں ہوا، تاہم رواں سال کے آغاز میں ہونے والی ایک دریافت نے ان کے اس شوق کو غیر معمولی بنا دیا۔
پیراڈن نے یہ ہیرا امریکی ریاست آرکنساس کے کریٹر آف ڈائمنڈز اسٹیٹ پارک میں ایک دوست کے ہمراہ کھدائی کے دوران دریافت کیا۔ وہ اس وقت اپنی تلاش کی سرگرمی کو ٹک ٹاک پر لائیو نشر بھی کر رہے تھے۔
انہوں نے بجری سے بھری بالٹی کو دھو کر اس کا مواد میز پر انڈیلا تو اس میں چمکتا ہوا ہیرا نظر آیا، جسے دیکھ کر وہ خوشی سے چیخ اٹھے۔
رپورٹس کے مطابق دریافت ہونے والا ہیرا تقریباً ایک ناخن کے برابر ہے اور رواں سال کریٹر آف ڈائمنڈز اسٹیٹ پارک سے ملنے والا اب تک کا سب سے بڑا ہیرا قرار دیا جا رہا ہے۔
بعض جواہرات کے ماہرین اور کلیکٹرز کا اندازہ ہے کہ ہیرے کی قیمت 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہوسکتی ہے، تاہم ایک تجربہ کار ماہرِ قدر نے اسی حجم اور معیار کے ہیرے کی ممکنہ قیمت تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر بتائی ہے۔
اس غیر معمولی دریافت نے جیک پیراڈن کے کئی برسوں پر محیط شوق کو ایک یادگار موڑ دے دیا ہے۔



