آئی ایم ایف پروگرام کی ایک اور شرط پوری، ایس او ایز پالیسی میں ترمیم

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کی ایک اور شرط پر عملدرآمد کرتے ہوئے ریاستی ملکیتی اداروں (SOEs) سے متعلق 2023 کی پالیسی میں ترمیم کردی۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزارتِ خزانہ نے ترمیمی نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پالیسی کے پیراگراف 31 میں ترمیم کرکے اس میں تین نئی شقیں 31(a)، 31(b) اور 31(c) شامل کی گئی ہیں۔
ترمیم کے تحت تمام ریاستی ملکیتی اداروں کے لیے مالیاتی رپورٹنگ کے معیار انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈز (IFRS) ہوں گے، جبکہ اس کا اطلاق سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کی جانب سے نوٹیفائیڈ فنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈز پر ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ریگولیٹڈ اداروں کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا فریم ورک فوقیت رکھے گا۔ اسی طرح ایس ای سی پی کی جانب سے دی گئی ترامیم اور استثنیٰ کا اطلاق ریاستی ملکیتی اداروں پر بھی ہوگا۔
ترمیمی پالیسی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اختیارات کو بھی برقرار رکھا گیا ہے اور اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956 کے تحت حاصل اختیارات کو فوقیت دی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق اسٹیچوٹری ریاستی ملکیتی اداروں کے لیے بھی ایک مخصوص فریم ورک جاری کیا جائے گا، جو خزانہ ڈویژن آڈیٹر جنرل کی مشاورت سے مرتب کرے گا۔
نوٹیفکیشن کے تحت تمام ریاستی ملکیتی اداروں کے لیے ایکٹ کے مطابق داخلی آڈٹ کا مؤثر طریقہ کار قائم کرنا بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔



