عراق میں امریکا اوراتحادی افواج کے23سال،کیاکھویا،کیاپایا؟

لاہور(سپیشل رپورٹ)2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے سے 2026 میں امریکی فوجی انخلا تک عراق کی کہانی صرف ایک جنگ کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسے خطے کی سیاسی، عسکری اور معاشی تبدیلی کی کہانی ہے جس کے اثرات آج بھی مشرق وسطیٰ کی سیاست پر نمایاں ہیں۔
19مارچ2003کو امریکا اور اس کے اتحادیوں نے عراق پر فوجی کارروائی شروع کی۔ چند ہفتوں میں صدام حسین کی حکومت ختم ہوگئی، بغداد پر اتحادی افواج کا قبضہ ہوگیا اور عراق ایک نئے دور میں داخل ہوگیا۔ لیکن جو جنگ ابتدا میں ایک تیز رفتار فوجی مہم دکھائی دیتی تھی، وہ آنے والے برسوں میں بغاوت، فرقہ وارانہ تشدد، القاعدہ، داعش، سیاسی کشمکش، ایرانی اثر و رسوخ اور طویل امریکی فوجی موجودگی میں تبدیل ہوگئی۔
30 ستمبر 2026 کو امریکا نے عراق سے اپنی آخری فوجی دستے بھی واپس بلا لیے۔ اس کے ساتھ عراق میں امریکا کی تقریباً 23 سالہ فوجی موجودگی کا اختتام ہوگیا۔ عراقی حکومت نے اس موقع کو خودمختاری کے نئے مرحلے کے طور پر پیش کیا، جبکہ بعض عراقی اور علاقائی حلقوں نے امریکی انخلا کے بعد سکیورٹی خلا اور ایران نواز ملیشیاؤں کے اثر و رسوخ کے خدشات بھی ظاہر کیے۔
صدام حسین کا خاتمہ؛جنگ کا پہلا بڑا مقصد
امریکی اور اتحادی افواج کی کارروائی کا فوری نتیجہ صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ تھا۔ عراق میں کئی دہائیوں سے قائم بعث پارٹی کی حکمرانی ختم ہوئی اور ملک میں ایک نیا سیاسی نظام تشکیل دینے کا عمل شروع ہوا۔بعد کے برسوں میں عراق میں انتخابات ہوئے، نیا آئین منظور ہوا اور پارلیمانی سیاست نے جگہ بنائی۔ تاہم اس سیاسی منتقلی کے ساتھ ہی ریاستی اداروں کی کمزوری، فرقہ وارانہ تقسیم، بدعنوانی اور مسلح گروہوں کا مسئلہ بھی سامنے آیا۔یوں صدام حکومت کا خاتمہ نسبتاً تیزی سے ہوگیا، لیکن اس کے بعد ایک مستحکم ریاست کی تعمیر کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوئی۔
جنگ کادوسرا مرحلہ:بغاوت اور فرقہ وارانہ تشدد
2003کے بعد عراق میں امریکی اور اتحادی افواج کو روایتی فوج سے زیادہ ایک مسلح بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ مختلف مزاحمتی گروہوں، القاعدہ سے وابستہ تنظیموں اور فرقہ وارانہ مسلح گروہوں نے امریکی افواج، عراقی سکیورٹی اداروں اور ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں شروع کردیں۔2006اور2007کے دوران فرقہ وارانہ تشدد انتہائی شدید ہوگیا۔بغداد سمیت متعدد علاقوں میں بم دھماکوں، اغوا، قتل اور جوابی کارروائیوں نے شہری زندگی کو شدید متاثر کیا۔
اسی ماحول میں امریکا نے 2007 میں اضافی فوجی دستوں پر مشتمل Surge حکمت عملی اختیار کی۔ اس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں تشدد کم کرنے میں کامیابی ملی، تاہم عراق میں مستقل سیاسی استحکام کا مسئلہ برقرار رہا۔
2011: امریکی فوج کا پہلا بڑا انخلا
دسمبر2011میں امریکی فوجی دستے عراق سے نکل گئے۔واشنگٹن نے اس وقت عراق میں اپنے بڑے جنگی مشن کے خاتمے کا اعلان کیا۔لیکن امریکی فوجی انخلا کے چند سال بعد عراق کو ایک نئی اور کہیں زیادہ خطرناک سکیورٹی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔
2014میں داعش نے عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا۔عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل داعش کے قبضے میں چلا گیا اور عراقی فوج کے بعض یونٹس شدید دباؤ میں پیچھے ہٹ گئے۔یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ2011کے انخلا کے باوجود عراق کی سکیورٹی صورتحال مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی تھی۔
داعش کا عروج اور امریکا کی دوبارہ واپسی
داعش کیخلاف جنگ نے امریکا کو دوبارہ عراق میں فوجی کردار ادا کرنے پر مجبور کیا۔امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد نے عراقی سکیورٹی فورسز، کرد پیشمرگہ اور دیگر مقامی فورسز کو فضائی مدد، انٹیلی جنس، تربیت اور فوجی معاونت فراہم کی۔طویل فوجی مہم کے بعد2017میں عراقی حکومت نے داعش کے علاقائی قبضے کے خاتمے کا اعلان کیا۔یہ امریکا اور اتحادیوں کے لیے عراق میں ایک نمایاں فوجی کامیابی تھی، لیکن داعش مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اس کے جنگجو زیرِ زمین نیٹ ورک کی صورت میں کارروائیاں کرتے رہے اور عراقی سکیورٹی اداروں کے لیے خطرہ برقرار رہا۔
امریکا نے کیا حاصل کیا؟
23سالہ جنگ کا جائزہ لیا جائے تو امریکا کے سامنے چند نمایاں نتائج آتے ہیں۔سب سے پہلے صدام حسین کی حکومت ختم ہوئی۔ اس کے بعد عراق میں انتخابی سیاست، آئینی نظام اور پارلیمانی ادارے قائم ہوئے۔دوسرا اہم نتیجہ داعش کے علاقائی قبضے کا خاتمہ تھا۔ 2014 میں جس تنظیم نے عراق کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا تھا، 2017 تک اس کی علاقائی حکمرانی ختم کردی گئی۔
تیسرا نتیجہ عراقی سکیورٹی اداروں کی تعمیر نو تھا۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے عراقی فوج، پولیس، انسداد دہشت گردی فورسز اور دیگر اداروں کی تربیت اور تنظیم نو پر طویل عرصے تک کام کیا۔چوتھا اہم نتیجہ امریکا اور عراق کے درمیان ایک طویل مدتی سکیورٹی تعلق کا قیام تھا، جو اب براہ راست امریکی فوجی موجودگی کے بجائے تربیت، انٹیلی جنس اور دوطرفہ تعاون کی سمت بڑھ رہا ہے۔
لیکن قیمت کتنی بھاری تھی؟
اس جنگ کی سب سے بڑی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کی گئی۔امریکی فوج اور اتحادی افواج کے ہزاروں اہلکار ہلاک ہوئے۔رائٹرز نے2026کے انخلا کی رپورٹ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کو 4,500 سے زائد بتایا۔
عراقی شہریوں کے نقصانات کا حساب کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ Iraq Body Count کے مطابق2003کے حملے کے بعد تشدد کے نتیجے میں دستاویزی شہری ہلاکتیں تقریباً 200,065 سے 226,628 کے درمیان ہیں،شہریوں اور جنگجوؤں سمیت مجموعی پرتشدد ہلاکتوں کا اس کا تخمینہ تقریباً 300,000 ہے۔ ادارہ خود واضح کرتا ہے کہ ریکارڈنگ اور رپورٹنگ کے خلا کی وجہ سے اصل تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ لاکھوں عراقی شہری اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے، خاندان بکھرے اور ملک کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔
امریکا کی مالی قیمت
جنگ کی مالی لاگت بھی غیر معمولی رہی۔Brown University کے Costs of War Project کے مطابق 2003 سے 2023 تک عراق اور شام کی جنگوں پر امریکا کے اخراجات اور مستقبل کے سابق فوجیوں کی طبی و معذوری سے متعلق اخراجات ملا کر تقریباً 2.89 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا۔
اس میں تقریباً 1.79 ٹریلین ڈالر اس وقت تک خرچ یا مختص ہونے والی رقم اور سابق فوجیوں کی مستقبل کی دیکھ بھال کے لیے تقریباً 1.1 ٹریلین ڈالر کی متوقع لاگت شامل تھی۔یہ رقم صرف عراق کے اندر تعمیر نو پر خرچ ہونے والی رقم نہیں بلکہ وسیع تر جنگی اخراجات، فوجی کارروائیوں اور سابق فوجیوں سے متعلق مستقبل کی ذمہ داریوں کو بھی شامل کرتی ہے۔
تعمیر نو،اربوں ڈالر مگر مکمل نتائج نہیں
جنگ کے بعد امریکا اور اتحادیوں نے عراق میں بجلی، پانی، صحت، تیل، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے بھاری رقوم خرچ کیںلیکن تعمیر نو کو سکیورٹی کی خراب صورتحال، بدعنوانی، انتظامی کمزوریوں اور سیاسی عدم استحکام نے متاثر کیا۔نتیجتاً بعض منصوبے مکمل ہوئے اور کئی شعبوں میں صورتحال بہتر ہوئی، لیکن عراق کو آج بھی بجلی، روزگار، بنیادی خدمات اور معاشی تنوع جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
ایران کا بڑھتا ہوا اثر؛ جنگ کا بڑا جغرافیائی نتیجہ
عراق جنگ کا ایک اہم اور پیچیدہ نتیجہ ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی صورت میں سامنے آیا۔صدام حسین ایران کے بڑے علاقائی مخالف تھے۔ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق کی سیاست میں ایسی شیعہ جماعتوں اور گروہوں کا اثر بڑھا جن کے ایران کے ساتھ تاریخی یا سیاسی روابط تھے۔بعد میں ایران نواز مسلح گروہ بھی عراق کے طاقت کے نظام کا اہم حصہ بن گئے۔
یوں ایک اہم جغرافیائی سیاسی تضاد پیدا ہوا: امریکا نے صدام حسین کی حکومت کو ختم کیا، لیکن اس کے نتیجے میں عراق میں ایران کے لیے سیاسی اور عسکری اثر و رسوخ بڑھانے کی گنجائش بھی پیدا ہوئی۔
کیا امریکا عراق کو جمہوری ملک بنا سکا؟
عراق میں انتخابات، پارلیمنٹ اور آئینی نظام کا قیام ایک اہم تبدیلی تھی۔ لیکن جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں۔عراق میں بدعنوانی، کمزور ادارے، سیاسی سرپرستی، فرقہ وارانہ سیاست اور ریاست سے باہر موجود مسلح گروہوں نے جمہوری اداروں کی کارکردگی کو متاثر کیا۔اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ امریکا اور اتحادیوں نے عراق میں انتخابی اور آئینی سیاسی نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، لیکن ایک مضبوط، مکمل طور پر خودمختار اور مستحکم ریاست کے قیام کا مسئلہ حل نہیں کیا۔
عراقی فوج:شکست سے بحالی تک
2014میں موصل کے سقوط نے عراقی فوج کی کمزوریوں کو نمایاں کردیا۔ایک ایسی فوج جس کی تعمیر نو پر امریکا نے برسوں اور اربوں ڈالر خرچ کیے تھے، داعش کے حملے کے سامنے بعض علاقوں میں تیزی سے پیچھے ہٹ گئی۔لیکن اس کے بعد یہی عراقی سکیورٹی فورسز اتحادی فضائی اور انٹیلی جنس مدد کے ساتھ داعش کے خلاف دوبارہ منظم ہوئیں۔2017تک عراقی فوج، انسداد دہشت گردی فورسز، کرد پیشمرگہ اور اتحادی افواج نے داعش سے اس کے بڑے علاقائی مراکز واپس لے لیے۔
یہ عراق میں امریکی فوجی مداخلت کے پیچیدہ نتائج کی ایک واضح مثال ہے: ایک مرحلے میں امریکی تربیت سے بننے والے ادارے کی کمزوری سامنے آئی، پھر اسی ادارے کو امریکی اور اتحادی مدد سے دوبارہ مضبوط کرکے داعش کے خلاف کامیابی حاصل کی گئی۔
تیل اور عراق کی معیشت
عراق کے پاس دنیا کے بڑے تیل کے ذخائر ہیں اور جنگ کے بعد تیل کی پیداوار و برآمدات میں مختلف ادوار میں نمایاں اضافہ ہوا،لیکن ملک کی معاشی ساخت میں تیل پر انحصار برقرار رہا۔
30ستمبر2026 کی رائٹرز رپورٹ کے مطابق عراقی بجٹ کی تقریباً 90 فیصد آمدنی تیل سے وابستہ ہے، اور امریکی فوجی انخلا کے باوجود عراق کی تیل آمدنی کے مالی نظام میں واشنگٹن کا اثر اب بھی موجود ہے۔ عراق کے تیل سے حاصل ہونے والے فنڈز کا ایک اہم انتظامی ڈھانچہ امریکی فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک سے منسلک ہے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی انخلا کے باوجود امریکا اور عراق کے تعلقات صرف دفاعی نہیں بلکہ مالی اور معاشی پہلو بھی رکھتے ہیں۔
اتحادی ممالک کی قیمت
امریکا اس جنگ کا سب سے بڑا فوجی فریق تھا، لیکن برطانیہ سمیت کئی اتحادی ممالک نے بھی فوجی دستے، مالی وسائل اور سیاسی سرمایہ فراہم کیا۔اتحادیوں کے نقصانات صرف فوجی ہلاکتوں تک محدود نہیں رہے۔ جنگ نے کئی ممالک میں عوامی اور سیاسی سطح پر عراق پالیسی پر شدید بحث پیدا کی اور مستقبل کی فوجی مداخلتوں کے حوالے سے احتیاط میں اضافہ کیا۔
Brown University کے مطابق امریکا کے علاوہ برطانیہ، اٹلی، آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور پولینڈ سمیت اتحادی ممالک نے بھی جنگ اور تعمیر نو کی لاگت برداشت کی۔
2026: آخرکار امریکا عراق سے نکل گیا
30 ستمبر 2026 کو آخری امریکی فوجی عراق سے نکل گئے۔ رائٹرز کے مطابق آخری فوجی اڈوں سے انخلا کے ساتھ Operation Inherent Resolve کے تحت عراق میں امریکی فوجی کردار ختم ہوگیا۔
بغداد میں اس موقع کو خودمختاری کے دن کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ عراقی وزیراعظم نے قومی سلامتی کی ذمہ داری مکمل طور پر عراقی ریاست کے ہاتھ میں آنے پر زور دیا۔تاہم امریکا نے عراق کے ساتھ تمام تعلقات ختم نہیں کیے۔ تربیت، انٹیلی جنس اور دوطرفہ سکیورٹی تعاون کے مختلف راستے برقرار رہنے کی توقع ہے۔
اب عراق کے سامنے اصل سوال کیا ہے؟
امریکی فوج کے جانے کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا عراقی ریاست اپنی سرزمین اور سکیورٹی نظام پر مکمل اختیار برقرار رکھ سکتی ہے۔ایک طرف عراقی سکیورٹی فورسز نے گزشتہ برسوں میں داعش کے خلاف نمایاں صلاحیت حاصل کی ہے۔
دوسری طرف داعش کا زیرِ زمین نیٹ ورک مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، جبکہ ایران نواز مسلح گروہ عراق کے سیاسی و سکیورٹی ماحول میں اہم طاقت رکھتے ہیں۔2014 میں موصل کا سقوط اب بھی عراقی حکام اور عوام کے لیے ایک اہم حوالہ ہے، اس لیے امریکی انخلا کے بعد کسی ممکنہ سکیورٹی خلا کے خدشات کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ رائٹرز کے مطابق یہی خدشات 2026 کے انخلا کے موقع پر بھی زیرِ بحث رہے۔
نتیجہ:عراق نے کیا پایا اور کیا کھویا؟
23 سالہ دور کا کوئی ایک لفظی فیصلہ ممکن نہیں۔امریکا نے صدام حسین کی حکومت ختم کی، عراق کے نئے سیاسی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور داعش کے علاقائی قبضے کے خاتمے میں فیصلہ کن فوجی مدد فراہم کی۔لیکن امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اس کے بدلے ہزاروں فوجیوں کی جانیں، کھربوں ڈالر، طویل فوجی وابستگی اور بھاری سیاسی قیمت ادا کی۔عراق نے ایک آمرانہ نظام سے نکل کر انتخابات اور پارلیمانی سیاست کا تجربہ حاصل کیا، لیکن اس کے ساتھ جنگ، فرقہ وارانہ تشدد، دہشت گردی، بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں، نقل مکانی، کمزور ادارے اور بیرونی اثر و رسوخ بھی اس کے حصے میں آئے۔سب سے اہم جغرافیائی سیاسی تضاد یہ ہے کہ امریکا نے عراق میں اپنی سب سے بڑی مخالف حکومت ختم کی، مگر اس کے بعد ایران کو عراق میں اپنا اثر بڑھانے کے لیے زیادہ مواقع ملے۔
اور 30 ستمبر 2026 کو جب آخری امریکی فوجی عراق سے روانہ ہوئے تو سوال یہ نہیں تھا کہ جنگ ختم ہوئی یا نہیں؛ اصل سوال یہ تھا کہ 23 سال کی جنگ کے بعد عراق اپنی سکیورٹی، سیاست اور معیشت کی ذمہ داری کس حد تک خود سنبھالنے کے قابل ہوچکا ہے۔



