گونی کینال میں ڈوبنے والے 7 سالہ شہزاد کا 23 گھنٹے بعد بھی سراغ نہ مل سکا

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے)گونی کینال میں گزشتہ روز ڈوبنے والے 7 سالہ بچے شہزاد احمد کھوسو کی تلاش کے لیے ریسکیو 1122 کی جانب سے سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے، تاہم واقعے کو تقریباً 23 گھنٹے گزرنے کے باوجود بچے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ریسکیو 1122 کے غوطہ خور گونی کینال کے پانی میں مسلسل مختلف مقامات پر تلاش کر رہے ہیں ریسکیو ذرائع کے مطابق گونی کینال میں پانی کا تیز بہاؤ سرچ آپریشن میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے، جس کے باعث غوطہ خوروں کو تلاش کے دوران مشکلات کا سامنا ہے۔ ریسکیو اہلکار دستیاب وسائل کے ساتھ بچے کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ نہر کی صورتحال کے پیش نظر غوطہ خور احتیاط کے ساتھ سرچ آپریشن کر رہے ہیں

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گونی کینال میں پانی کی سطح زیادہ ہونے کے باعث بچے کی تلاش میں مشکلات مزید بڑھ رہی ہیں۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرچ آپریشن میں آسانی پیدا کرنے کے لیے نہر میں پانی کی سطح کم کرنے کے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ مقامی افراد کے مطابق اگر آبپاشی عملے کی جانب سے بروقت پانی کم کیا جاتا تو بچے کی تلاش میں مزید سہولت پیدا ہوسکتی تھی

مقامی ذرائع کے مطابق کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود محکمہ آبپاشی کے عملے کی جائے وقوعہ پر موجودگی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے محکمہ آبپاشی کا مؤقف سامنے نہیں آسکا

دوسری جانب انتظامیہ اور ریسکیو حکام کی جانب سے بچے کی تلاش کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں اور صورتحال کی نگرانی بھی جاری ہے۔ ریسکیو 1122 کے غوطہ خور نہر کے پانی میں مختلف مقامات پر مسلسل سرچ آپریشن کر رہے ہیں اہل خانہ کے مطابق شہزاد احمد کھوسو خاندان کا اکلوتا بیٹا ہے، جس کے گونی کینال میں ڈوبنے کے بعد سے گھر میں تشویش کی صورتحال ہے۔ اہل خانہ اور علاقہ مکین بچے کی بحفاظت بازیابی کے لیے ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتائج کے منتظر ہیں

مزید خبریں

Back to top button