ایران کا جنگ کے دوران دشمن کے 200 سے زائد طیارے مار گرانے کا دعویٰ

تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایران کے پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے ڈپٹی کمانڈر انچیف میجر جنرل مصطفیٰ ایزدی نے دعویٰ کیا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک فورسز نے دشمن کے 200 سے زائد طیارے مار گرائے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار مصطفیٰ ایزدی نے تہران میں صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم کی مزاحمت اور ملک کی دفاعی نوعیت کی ’’نرم اور ادراکی‘‘ کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کے مار گرائے گئے طیاروں کی تعداد 200 سے تجاوز کرچکی ہے۔

مصطفیٰ ایزدی نے امریکا اور اسرائیل سے جاری تنازع کو روایتی فوجی جنگ کے بجائے ہائبرڈ جنگ قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ دشمن ممالک نے ایران کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ فوجی کارروائیوں کے ذریعے بھی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔

انھوں نے مزید کہا کہ دشمن کی حکمت عملی میں فوجی کارروائی کے ساتھ نفسیاتی، اطلاعاتی اور ادراکی محاذ بھی شامل ہیں تاہم ایرانی ریاست ان دباؤ کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

ایرانی کمانڈر نے اس تاثر کو بھی مسترد کردیا کہ جنگ نے ایران کے سیاسی نظام کو کمزور یا ملک کو تقسیم کردیا۔ ان کے بقول اسلامی جمہوریہ نہ صرف تقسیم نہیں ہوئی بلکہ ایرانی نظام پہلے سے زیادہ مضبوط اور ثابت قدم ہوکر سامنے آیا ہے۔

ایزدی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے اپنے مخالفین کے مقابلے میں انتہائی کم جنگی اخراجات کے ساتھ انھیں شکست دی جبکہ دشمن کے نقصانات 100 گنا زیادہ ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے دشمن طیاروں کی بڑی تعداد مار گرانے کے دعوے پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں اور ماضی کی طرح اس دعوے کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے میڈیا رپورٹس میں ایک تھائی سے زائد اسلحے کی کھیپ ختم ہونے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکا کے مونگ پھلی کے دانے جتنے ہتھیار استعمال ہوئے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button