ایرانی حملوں کا خوف،آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کی آمد ورفت بند

لندن(جانوڈاٹ پی کے)ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں مزید دو بحری جہازوں پر حملوں کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ سے تجارتی آمدورفت تقریباً رک گئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کی شام ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) کے دو جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
متحدہ عرب امارات نے ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا ہے تاہم ایران نے فوری طور پر ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ واقعے میں جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب امریکا کے ایران پر مزید اقتصادی دباؤ اور بحری ناکہ بندی طویل عرصے تک برقرار رکھنے کے اعلان نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی کے اعداد و شمار کے مطابق آج جمعے کو آبنائے ہرمز سے صرف چند ہی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے دو جہاز ہی گزرے ہیں۔
جن میں ایک اناج بردار جہاز ایرانی پانیوں میں داخل ہوا جبکہ ایک خالی خشک مال بردار جہاز مخالف سمت میں گزرا۔ ایک خالی ایل پی جی ٹینکر بھی آبنائے کے راستے خلیج کی جانب بڑھتا دیکھا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ جمعے کو خام تیل لے جانے والا کوئی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتا دکھائی نہیں دیا جب کہ گزشتہ روز 9 کمرشل جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کیا اور بدھ کو 5 جہاز گزرے تھے۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران سے جنگ سے قبل یعنی فروری سے پہلے اسی آبنائے ہرمز سے روزانہ 130 سے زائد بحری جہاز گزرا کرتے تھے۔
اب بعض جہاز اپنے ٹرانسپونڈر بند کرکے سفر کرسکتے ہیں اس لیے دستیاب اعداد و شمار مکمل تصویر پیش نہیں کرتے تاہم مجموعی آمدورفت میں کمی غیر معمولی حد تک نمایاں ہے۔
رائٹرز کے بقول جون میں جنگ بندی کے لیے ہونے والے معاہدے کے بعد کشیدگی کم کرنے کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں۔ ایک ایرانی اعلیٰ عہدیدار نے رواں ہفتے کہا تھا کہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ایران نے ان بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں دوبارہ شروع کردی ہیں جنہیں وہ آبنائے ہرمز سے بغیر اجازت گزرنے کی کوشش کرنے والا سمجھتا ہے۔
ایران اس آبی گزرگاہ پر اپنے کنٹرول اور بعض جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے حق پر زور دیتا رہا ہے جبکہ امریکا آبنائے کو بین الاقوامی تجارت کے لیے کھلا رکھنے پر بضد ہے۔
واضح رہے کہ جمعے کو بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی اوپر گئیں۔ برینٹ خام تیل تقریباً 87.87 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 81.69 ڈالر تک پہنچ گیا۔



