جوؤں کی دوا میں ایسا کیمیکل جس نے سائنسدانوں کو چونکا دیا،چھاتی کے سرطان کا خدشہ

لندن (جانو ڈاٹ پی کے) سر کی جوؤں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بعض مصنوعات میں موجود کیمیکلز کے ممکنہ صحت کے خطرات نے سائنسدانوں کی توجہ حاصل کرلی، ماہرین نے ملا تھیون (Malathion) سمیت متعدد کیمیکلز کو ایسے مادّوں میں شامل کیا ہے جو چھاتی کے سرطان کے ممکنہ خطرے سے متعلق خصوصیات رکھتے ہیں۔

تحقیق میں 900 سے زائد ایسے کیمیکلز کا جائزہ لیا گیا جن کے بارے میں پہلے سے شواہد موجود ہیں کہ وہ چھاتی کے سرطان کے خطرے سے متعلق حیاتیاتی خصوصیات رکھتے ہیں، جن میں ہارمونز کے نظام میں خلل ڈالنے یا جانوروں میں چھاتی کے غدود کی رسولیوں سے متعلق شواہد شامل ہیں۔

محققین کے مطابق ان کیمیکلز میں ملا تھیون بھی شامل ہے، جو بعض سر کی جوؤں کے علاج میں استعمال ہونے والا کیڑے مار کیمیکل ہے۔ محققین نے اس کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے کیونکہ یہ کیمیکل بعض مطالعات میں چھاتی کے غدود کی رسولیوں، ہارمونل سرگرمی اور ڈی این اے کو نقصان پہنچانے جیسے عوامل سے منسلک پایا گیا ہے۔

تحقیق کی سربراہ مصنفہ اور Silent Spring Institute کی سائنسدان جینیفر کے کے مطابق انسان زندگی بھر مختلف ذرائع سے متعدد کیمیکلز کے اثرات کا سامنا کرتا ہے، اس لیے ممکنہ طور پر نقصان دہ کیمیکلز سے نمائش کم کرنا سرطان سے بچاؤ کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں ملا تھیون کے علاوہ بسفینول اے (BPA)، میتھائل پیرا بین، بینزین، اسٹائرین اور DEHP سمیت متعدد کیمیکلز کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جو پلاسٹک، خوراک کی پیکنگ، کاسمیٹکس، طبی آلات اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا میں پائے جاسکتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حفاظتی جائزوں میں اکثر کیمیکلز کو ایک ایک کرکے جانچا جاتا ہے، جبکہ حقیقی زندگی میں انسان بیک وقت متعدد کیمیکلز کے مرکب سے متاثر ہوسکتا ہے، جس سے مجموعی اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ماہرین کی تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ جوؤں کی دوا استعمال کرنے سے لازماً چھاتی کا سرطان ہوتا ہے، بلکہ یہ ایسے کیمیکلز کی نشاندہی کرتی ہے جن پر سرطان کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے مزید تحقیق اور حفاظتی جائزے ضروری ہیں۔**

مزید خبریں

Back to top button