آئی ایم ایف کی کڑی شرائط: موجودہ حکومت کا سیاسی باب بند ہونے والا ہے؟

​لاہور: خصوصی نشست (جانو ڈاٹ پی کے)​وفاقی بجٹ کی تیاری اور سیاسی اتحادیوں کے رویے پر گفتگو کرتے ہوئے انکشاف ہوا ہے کہ بجٹ کی منظوری میں تعطل کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ہیں، جس کے تحت عالمی مالیاتی ادارہ ترقیاتی فنڈز یعنی پی ایس ڈی پی کو ختم کرنے اور تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ لادنے کا مطالبہ کر رہا ہے، اور حکومت اس نازک صورتحال میں ایسے راستے کی تلاش میں ہے جس سے اس کا باقی ماندہ سیاسی سرمایہ مکمل طور پر ختم نہ ہو جائے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے درمیان بننے والی کمیٹیاں کسی ناراضگی کے بجائے صرف بجٹ سازی اور پاور شیئرنگ فارمولے کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کا یہ اصولی فیصلہ ہو چکا ہے کہ تمام تر تحفظات کے باوجود بجٹ کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ دوسری جانب ایم کیو ایم کے حوالے سے صورتحال دلچسپ موڑ اختیار کر چکی ہے جہاں فاروق ستار کے بیانات کی اب کوئی سیاسی حیثیت نہیں رہی کیونکہ ایم کیو ایم اندرونی طور پر تین گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے، اور مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی جیسے رہنماؤں کی موجودگی میں فاروق ستار کی دھمکیاں غیر مؤثر ہو کر رہ گئی ہیں۔ مجموعی طور پر حکومت آئی ایم ایف کو کسی حد تک راضی کرنے کی تگ و دو میں ہے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف دیا جا سکے، جبکہ حکومتی اتحادی جماعتوں کی جانب سے کسی بھی قسم کی بغاوت کا کوئی امکان نہیں ہے۔

مکمل تفصیلات کے لیے عمران شفقت کا وی لاگ ملاحظہ کریں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button