مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ عالمی معیشت کیلئے بڑا چیلنج، آئی ایم ایف نے پاکستان کی شرح نمو کا تخمینہ برقرار رکھ دیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) مشرق وسطیٰ میں دوبارہ جنگ کے خدشات کو عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے سے توانائی کی سپلائی اور مہنگائی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت کے لیے رواں مالی سال میں معاشی شرح نمو کا تخمینہ 3.5 فیصد برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ حکومت نے 4 فیصد معاشی نمو کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ رپورٹ میں گزشتہ مالی سال کی 3.7 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں معاشی رفتار میں معمولی کمی کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے اور 2026 میں عالمی افراط زر 4.7 فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ خام تیل کی اوسط قیمت 89 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات مختلف ممالک کی معیشتوں پر پڑیں گے۔

رپورٹ میں عالمی معاشی شرح نمو 2026 میں 3 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کو عالمی معیشت کے لیے مثبت عنصر قرار دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال خطے سمیت عالمی اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ عراق، کویت اور قطر کو 2026 کے دوران معاشی سکڑاؤ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button