تھر میں نایاب درختوں کی مبینہ غیرقانونی کٹائی، علاقہ مکینوں میں تشویش، شفاف تحقیقات کا مطالبہ

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھرپارکر کے مختلف علاقوں میں نایاب درخت کنڈی، کونبھٹ اور جار کی مبینہ غیرقانونی کٹائی پر مقامی رہائشیوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق رات کی تاریکی میں پابندی کے شکار درختوں کو ٹرکوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعے ونگو موڑ لایا جاتا ہے، جہاں سے مبینہ طور پر کراچی کے تاجروں کو فروخت کیا جاتا ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس مبینہ کاروبار کی قانونی حیثیت اور اس سے وابستہ افراد کے کردار کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے ونگو موڑ پر جاری مبینہ لکڑی کے کاروبار کا نوٹس لیں، خریدار تاجروں کی قانونی شناخت اور رجسٹریشن کی جانچ کریں، اور اگر کسی شخص کی رہائش یا شہریت سے متعلق کوئی قانونی مسئلہ موجود ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ مقامی ذرائع نے محکمہ جنگلات کے ایک اہلکار پر بھی الزام عائد کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر رشوت لے کر لکڑی سے بھری گاڑیوں کو رات کے وقت گزرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ تاہم ان الزامات کی سرکاری سطح پر نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید سامنے آئی ہے۔ علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ جنگلات کے کردار، خصوصاً متعلقہ اہلکار پر لگائے گئے الزامات کی اعلیٰ سطحی، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، جبکہ پابندی کے شکار درختوں کی کٹائی، نقل و حمل اور خرید و فروخت میں ملوث ثابت ہونے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق کنڈی، کونبھٹ اور جار جیسے درخت تھر کے ماحولیاتی توازن، حیاتیاتی تنوع اور صحرائی ماحول کے تحفظ کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا تحفظ صرف موجودہ نسل ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس لیے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاملے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور قانون کے مطابق مناسب اقدامات کیے جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button