کلوئی: میگھواڑ خاندان کا پولیس کی سرپرستی میں مسلح افراد کی گھروں پر مبینہ فائرنگ، زمین پر قبضے اور فصلوں کو نقصان کا الزام

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) کلوئی تھانے کی حدود گاؤں مالو میگھواڑ کیٹی میں رہائش پذیر میگھواڑ خاندانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے گھروں پر مبینہ طور پر مسلح افراد کی جانب سے مسلسل فائرنگ کی جا رہی ہے، جبکہ آمدورفت کے راستے بند کرکے ان کی زمینوں پر مبینہ قبضہ کیا گیا ہے، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
گاؤں کے رہائشی مہندرو مل، سومار مل، دلیپ کمار، سہیل میگھواڑ اور لیمون مل نے بتایا کہ فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد ایک خاتون بے ہوش ہوگئی، جبکہ خوف کے باعث مبینہ طور پر ڈاکٹر بھی گاؤں آنے سے گریز کر رہے ہیں۔
متاثرہ افراد کے مطابق مسلح افراد مبینہ طور پر صبح و شام گھروں کی گلی میں کھڑے ہوکر فائرنگ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آمدورفت کے راستے بند ہونے کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ زمینوں پر مبینہ طور پر مسلح افراد تعینات کیے گئے ہیں۔
گاؤں والوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ان کی فصلوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور کپاس کی فصل کاٹ کر مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال کی جا رہی ہے، جبکہ کے ہمارے مویشیوں کے لیے خوراک کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔
متاثرین نے پولیس کی مبینہ سرپرستی میں دیوی کے درخت کاٹ کر فروخت کرنے اور ان کے خلاف مقدمات درج کرکے ہراساں کرنے کے بھی الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی جانوں کا خطرہ لاحق ہے۔ گاؤں والوں نے پولیس پر مبینہ طور پر ملزمان کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں سے معاملے کی شفاف تحقیقات، تحفظ اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرین نے سپریم کورٹ آف پاکستان، سندھ ہائی کورٹ میرپورخاص بینچ اور سول جج ڈپلو سے بھی معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ گاؤں والوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر صورتحال کا فوری نوٹس نہ لیا گیا تو مالی نقصان کے ساتھ کوئی جانی نقصان بھی ہوسکتا ہے، جس کی ذمہ داری وہ مبینہ طور پر بااثر افراد پر عائد کرتے ہیں۔



