پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ3ہزار900بچے رجسٹرڈ،سندھ اور پنجاب میں سب سے زیادہ کیسز سامنے آگئے

وزارت صحت کے مطابق اس عرصے کے دوران ملک بھر میں ایچ آئی وی سے متاثرہ 3 ہزار 900 بچوں کو رجسٹرڈ کیا گیا۔ صوبائی اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں سب سے زیادہ ایک ہزار 915 بچے متاثر ہوئے، جبکہ پنجاب میں ایک ہزار 765 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔
خیبر پختونخوا میں 139، بلوچستان میں 46، اسلام آباد میں 30، آزاد کشمیر میں 4 اور گلگت بلتستان میں ایک بچہ ایچ آئی وی سے متاثر پایا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کے سالانہ کیسز کا تخمینہ 16 ہزار سے بڑھ کر 48 ہزار تک پہنچ گیا ہے۔ ایچ آئی وی اسکریننگ ٹیسٹوں کی تعداد بھی 2020 میں 37 ہزار 944 کے مقابلے میں 2025 میں 3 لاکھ 74 ہزار سے تجاوز کرگئی۔
رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز وزیر دفاع نے جوش خطابت میں خواتین کے بارے میں نامناسب بات کی، جس کی وہ مذمت کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت یا اپوزیشن، کسی بھی جانب سے خواتین کے خلاف نامناسب گفتگو کی جائے تو اس کی مذمت کی جائے گی۔
رکن قومی اسمبلی شاہدہ بیگم نے کہا کہ تمام خواتین، خواہ ان کا تعلق حکومت سے ہو یا اپوزیشن سے، قابل احترام ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد 4 لاکھ 17 ہزار سے زائد ہے، جبکہ ان میں سے 92 ہزار 148 افراد رجسٹرڈ ہیں اور اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی حاصل کر رہے ہیں۔
اجلاس کے دوران ایچ ای سی ترمیمی بل 2026 سمیت متعدد قانون سازی بھی منظور کی گئی۔ قومی اسمبلی نے این ایف سی ادارہ برائے انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان ترمیمی بل 2026، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی ترمیمی بل 2026 اور قومی رحمت للعالمین وخاتم النبیین اتھارٹی ترمیمی بل 2026 کی بھی منظوری دے دی۔



