اورل سن سکرین:دھوپ سے بچانے والی جادوئی گولی، اب یہ کیا ہے بھائی؟

نہال معظم

بیوٹی انڈسٹری شاید دنیا کی واحد صنعت ہے جہاں ہر چند ماہ بعد ایسا نیا معجزہ متعارف کرا دیا جاتا ہے جو پچھلے تمام معجزوں کو پرانا ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کبھی کولیجن پینے کا شور مچتا ہے، کبھی ڈیٹاکس ڈرنکس زندگی بدلنے کا دعویٰ کرتے ہیں، اور اب مارکیٹ میں ایک نئی اصطلاح گردش کر رہی ہے: "اورل سن سکرین”۔ یعنی سن اسکرین اب لگائی نہیں جائے گی، بلکہ کھائی جائے گی! یہ سن کر بے اختیار دل سے یہی نکلتا ہے، "اب یہ کیا ہے بھائی؟”

دعویٰ یہ ہے کہ ایک کیپسول نگلیں اور سورج کی تیز الٹرا وائلٹ شعاعوں سے محفوظ ہو جائیں۔ نہ بار بار سن اسکرین لگانے کی جھنجھٹ، نہ چپچپاہٹ، نہ سفید تہہ۔ بظاہر تو یہ ہر اس شخص کا خواب لگتا ہے جو گرمیوں میں سن اسکرین لگانے سے اکتا چکا ہے، لیکن سائنس خوابوں کے بجائے شواہد مانگتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جن پروڈکٹس کو "اورل سن سکرین” کہا جا رہا ہے، ان میں عموماً Polypodium leucotomos نامی پودے کا عرق، ایسٹا زانتھن، لائکوپین، وٹامن بی تھری اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس شامل ہوتے ہیں۔ یہ اجزا جسم میں سورج کی شعاعوں سے پیدا ہونے والے آکسیڈیٹو اسٹریس اور سوزش کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی جلد پر ایس پی ایف والی حفاظتی تہہ نہیں بناتا۔

اسی لیے دنیا بھر کے ماہرینِ جلد ایک بات پر متفق ہیں کہ ان سپلیمنٹس کو روایتی سن اسکرین کریم کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر کوئی شخص صرف ایک گولی کھا کر یہ تصور کر لے کہ اب وہ گھنٹوں دھوپ میں محفوظ رہے گا تو یہ غلط فہمی اس کی جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں بدستور جلد تک پہنچتی رہتی ہیں اور وقت سے پہلے بڑھاپا، جھریاں، چھائیاں اور جلدی سرطان کے خطرات برقرار رہتے ہیں۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان میں سے زیادہ تر مصنوعات غذائی سپلیمنٹس کے طور پر فروخت ہوتی ہیں، ادویات کے طور پر نہیں۔ اس لیے ان کے بارے میں کیے جانے والے اشتہاری دعوے اکثر سائنسی حقیقت سے کہیں زیادہ بڑے ہوتے ہیں۔ چند محدود تحقیقات میں کچھ فوائد ضرور سامنے آئے ہیں، مگر ایسا کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں کہ یہ گولیاں سن اسکرین کریم کی جگہ لے سکتی ہیں۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ یہ سپلیمنٹس نقصان دہ ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ انہیں "سن سکرین” کا نام دے کر ایسا تاثر پیدا کیا جاتا ہے جیسے اب بوتل والی سن اسکرین کی ضرورت ہی ختم ہو گئی ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مارکیٹنگ، سائنس سے آگے نکلنے کی کوشش کرتی ہے۔

لہٰذا اگر آپ واقعی دھوپ سے اپنی جلد کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو اب بھی بہترین طریقہ یہی ہے کہ اچھی کوالٹی کی براڈ اسپیکٹرم سن اسکرین استعمال کریں، دھوپ کے اوقات میں غیر ضروری طور پر باہر نہ رہیں، ٹوپی، چشمہ اور مناسب لباس اختیار کریں۔ اگر ڈاکٹر مناسب سمجھیں تو اینٹی آکسیڈنٹ سپلیمنٹ بطور اضافی مدد لیا جا سکتا ہے، مگر اسے جادوئی ڈھال سمجھنا دانشمندی نہیں۔

 

مزید خبریں

Back to top button