امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے’’میرا پاکستان برانڈ‘‘نمائش کا افتتاح کردیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے ایکسپو سنٹر لاہور میں ’’میرا پاکستان برانڈ‘‘ نمائش کا افتتاح کر دیا اور یومِ آزادی کے موقع پر قومی پرچم بھی لہرایا۔

افتتاحی تقریب میں صدر لاہور چیمبر آف کامرس فہیم الرحمن سہگل سمیت کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گزشتہ سال یومِ آزادی پر ’’میرا برانڈ پاکستان‘‘ کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ ان کے بہترین پاکستانی متبادل فراہم کرنا تھا۔ فلسطینی بھائیوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’میرا برانڈ پاکستان‘‘ غیر ملکی مصنوعات کا بہترین متبادل ہے، پاکستانی مصنوعات پوری دنیا میں اپنی جگہ بنا سکتی ہیں، تاہم اس کے لیے حکومت کو صنعتکاروں کو سہولتیں دینا ہوں گی۔ ہمیں اپنی برآمدات بڑھانا ہوں گی اور حکومتی پالیسیوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ رکاوٹیں دور کرکے پاکستانی مصنوعات کو دنیا بھر میں فروغ دیا جاسکتا ہے، ’’میرا برانڈ پاکستان‘‘ کا مقصد دنیا بھر میں پاکستانی مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینا ہے۔ اسلام آباد میں بھی ’’میرا برانڈ پاکستان‘‘ نمائش منعقد کی جائے گی، جس کے بعد بنگلا دیش میں بھی اس کا انعقاد کریں گے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جنریشن زی سے مراد صرف وہ نوجوان نہیں جنہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ ان نوجوانوں کو بھی جنریشن زی کہا جاتا ہے جو یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہم نے بائیکاٹ کا متبادل فراہم کیا ہے اور قومی صنعت کے فروغ کے لیے مؤثر و بہترین پاکستانی مصنوعات پیش کی ہیں۔

صدر لاہور چیمبر آف کامرس فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی پر عزم کرنا ہے کہ ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنائیں گے، بطور قوم مل جل کر ملکی استحکام کے لیے کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر اندرون اور بیرون ملک پاکستانی مصنوعات کی نمائش کا اہتمام کرے گا، برآمدات بڑھا کر ملکی معیشت مضبوط کریں گے۔ نمائش کا مقصد ملکی کاروبار کو فروغ دینا ہے، نجی شعبہ معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

فہیم الرحمن سہگل کا کہنا تھا کہ حکومت کاروبار میں آسانیاں پیدا کرے تو معیشت تیزی سے ترقی کرسکتی ہے۔ پاکستانی مصنوعات کو مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹس تک لے کر جانا ہوگا، جبکہ انسانی وسائل کو ٹیکنیکل تعلیم دینا بھی ضروری ہے۔ معاشی ترقی کے لیے ہمیں فنشڈ مصنوعات برآمد کرنے کی طرف جانا ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button