تھرپارکر:گوڑھیار میں مہیش کمار ملانی اور فقیر شیر محمد کا دورہ، آگ کے بڑھتے واقعات پر ہنگامی اقدامات کی یقین دہانی

تھرپارکر (میندھرو کاجھروی) کچھ دیر قبل گاؤں گوڑھیار میں ایک اہم دورہ کیا گیا، جہاں ایم این اے مہیش کمار ملانی اور فقیر شیر محمد بلالانی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مقامی مسائل، ہنگامی صورتحال اور ترقیاتی ضروریات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دونوں نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ تھر میں آگ لگنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کو مزید فعال اور متحرک بنایا جائے گا، جبکہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مؤثر نفاذ کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کے سامنے مضبوط سفارشات پیش کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ تھر کول کمپنیوں کو تعلقہ اسلام کوٹ میں ایمرجنسی ریلیف سرگرمیوں میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اس موقع پر تھر فائونڈیشن کی پالیسیوں کو مزید واضح اور مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی بات کی گئی تاکہ ریلیف اور ترقیاتی کاموں میں بہتری لائی جا سکے۔ فقیر شیر محمد بلالانی نے کہا کہ ضلعی کونسل کو ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ ہنگامی حالات خصوصاً آگ جیسے واقعات کے لیے کم از کم پانچ کروڑ روپے کا مستقل بجٹ مختص کرنا چاہیے، جس کی وہ پہلے بھی بارہا سفارش کر چکے ہیں۔ گاؤں والوں نے شکایت کی کہ علاقے میں پینے کے پانی کا شدید بحران ہے، جبکہ موجودہ بورنگ کا پانی انتہائی کڑوا اور غیر قابلِ استعمال ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر آر او پلانٹس فراہم کیے جائیں تاکہ لوگ اپنے گھروں میں صاف پانی کی سہولت حاصل کر سکیں۔ دوسری جانب تاجر ایسوسی ایشن کے رہنما کلدیپ کمار اور محسن لنجو اپنی ٹیم کے ہمراہ موقع پر موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کل ہر متاثرہ خاندان میں چارپائیاں، بستر اور راشن تقسیم کیا جائے گا، تاہم ریلیف کیمپنگ کا عمل ابھی مکمل نہیں ہو سکا۔ خیموں کی حالت بھی نامکمل رہی—کہیں کیلیں موجود نہیں تھیں اور کہیں رسیاں کم تھیں، جس کی وجہ سے شدید گرمی میں متاثرین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
میڈیا ٹیم بھی موقع پر پہنچی اور زمینی حالات، وجوہات اور عوامی مشکلات پر تفصیلی رپورٹ تیار کیا۔ آخر میں گاؤں والوں نے مطالبہ کیا کہ ریلیف اور کولنگ کا عمل فوری مکمل کیا جائے، اور کم از کم 10 میٹھے پانی کے ٹینکر فوری طور پر فراہم کیے جائیں تاکہ پانی کے بحران کو کم کیا جا سکے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم بھی موقع پر موجود رہی اور ریسکیو 1122 کی جانب سے متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کی گئی۔



