امریکی اڈے پرایرانی میزائلوں کی بارش،ٹرمپ کی سعودی عرب کو ہولناک دھمکیاں،سلطنتِ عمان کا منہ توڑ جواب!

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین کشیدگی کے دوران جیو پولیٹیکل منظرنامہ یکسر تبدیل ہو گیا ہے اور پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ممکنہ امن معاہدے کے امکانات اب مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں امریکی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے تعاون سے تیار کردہ امن فریم ورک پر دستخط کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس ڈیل کو اسرائیل کی بقا اور ‘معاہدہ ابراہیمی’ (Abraham Accords) کے ساتھ نتھی کرتے ہوئے سعودی عرب، قطر، کویت اور دیگر مسلم ممالک کو کھلی دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے فوراً اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے معاہدہ ابراہیمی پر دستخط نہ کیے تو وہ ایران کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کریں گے اور ان ممالک کو بھی اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
اس جیو پولیٹیکل دباؤ کے بڑھتے ہی خطے میں باقاعدہ جنگی کارروائیوں میں انتہائی ہولناک تیزی آ گئی ہے۔ امریکی فورسز (CENTCOM) نے گزشتہ تین دنوں میں دوسری بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایران کی بندرگاہ ‘بندر عباس’ اور ڈرون لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس امریکی حملے کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے کویت میں واقع امریکی فوجی اڈے ‘ابو سلیم بیس’ پر بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز کی بارش کر دی ہے۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں امریکی بیس کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ کویت نے 6 ایرانی بیلسٹک میزائل داغے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے تمام میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ ادھر، آبنائے ہرمز میں موجود امریکی بحری بیڑے پر بھی ایرانی اینٹی شپ کروز میزائلوں سے حملے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ کی جانب سے عمان کو ‘تباہ و برباد’ (Blow up) کرنے کی دھمکی پر سلطنتِ عمان کے جرات مند حکمران سلطان شمیم نے امریکی دھمکیوں کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے واشنگٹن کو ایک کرارا اور تاریخی تھپڑ مارا ہے۔ عمان نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے امریکی پابندیوں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے ایران کو پیشکش کی ہے کہ وہ اپنی تمام سمندری تجارت کے لیے سلطنتِ عمان کی بندرگاہوں اور خلیجِ عمان کو بلا جھجک استعمال کر سکتا ہے، اور مسقط نے جنگ کے باوجود ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو فوری طور پر دوگنا کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران پر 40 دنوں میں 11,000 سے زائد فضائی حملوں کے باوجود امریکہ اور اسرائیل اسے جھکانے میں ناکام رہے ہیں اور اب یہ جنگ یوکرائن یا یوورینیم کی نہیں بلکہ محض مشرقِ وسطیٰ میں ‘گریٹر اسرائیل’ کے قیام اور مسلم ممالک کو بلیک میل کرنے کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ خطے کی اس انتہائی نازک اور جنگی صورتحال کی مکمل اندرونی کہانی جاننے کے لیے معزم فخر کا یہ خصوصی وی لاگ لازمی دیکھیں۔




