پشاور میں سنسنی خیز واقعہ، گینگ ریپ کیس کے چاروں ملزمان مارے گئے

پشاور (جانو ڈاٹ پی کے) پشاور میں مبینہ اجتماعی زیادتی کے انتہائی افسوسناک کیس میں ڈرامائی موڑ آگیا، چار گرفتار ملزمان نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔
پشاور پولیس کے مطابق چاروں ملزمان کو مبینہ گینگ ریپ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور عدالت نے ان کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ دیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کا میڈیکل معائنہ مکمل ہونے کے بعد انہیں مزید تفتیش اور نشاندہی کے لیے اس مقام پر لے جایا جا رہا تھا جہاں مبینہ طور پر خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق رنگ روڈ پر پہنچنے کے بعد نامعلوم مسلح افراد نے ملزمان پر اچانک فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں چاروں ملزمان موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے افراد کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی اور یہ بھی معلوم نہیں کہ حملہ آور ملزمان کے ساتھی تھے، مخالفین تھے یا کسی ذاتی دشمنی کے تحت کارروائی کی گئی۔
واقعہ جس مقدمے کے بعد پیش آیا، اس کے مطابق رحمان بابا تھانے کی حدود میں مسلح افراد ایک گھر میں داخل ہوئے اور وہاں موجود خواتین کو مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق واقعے کے دوران خواتین کے شوہروں کو باندھ دیا گیا تھا جبکہ گھر سے موبائل فون بھی لے جائے گئے۔
ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان کے مطابق واقعے میں ایک سات سالہ بچی بھی موجود تھی اور پولیس نے بچی سے مبینہ نامناسب رویے کے پیش نظر چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعات بھی مقدمے میں شامل کی تھیں۔
پشاور کے ایس ایس پی ڈاکٹر محمد سمیع ملک کے مطابق چاروں ملزمان کو واقعے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور جمعرات کو عدالت میں پیش کرنے پر ایک روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا۔ بعد ازاں میڈیکل کارروائی مکمل کرکے انہیں رات کے وقت مبینہ واردات کے مقام پر نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اسی دوران نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی کو نشانہ بنایا اور فائرنگ کے نتیجے میں چاروں ملزمان ہلاک ہوگئے۔
چاروں ملزمان کی ہلاکت نے کیس کو مزید پراسرار بنا دیا ہے، جبکہ پولیس نے حملہ آوروں کی شناخت اور فائرنگ کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام کے مطابق فی الحال حتمی طور پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ حملہ آور مقتول ملزمان کے ساتھی تھے یا ان کے مخالفین۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور فائرنگ کرنے والے افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔



