غزہ پر بننے والی دستاویزی فلم ’نازا‘ نے وینس فلم فیسٹیول میں تہلکہ مچا دیا

وینس (جانو ڈاٹ پی کے) غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے پس منظر میں بنائی گئی دستاویزی فلم ’نازا‘ نے وینس فلم فیسٹیول میں غیرمعمولی پذیرائی حاصل کرلی، جہاں فلم کی نمائش کے بعد حاضرین نے تقریباً 25 منٹ تک کھڑے ہوکر تالیاں بجائیں۔
اسرائیلی صحافیوں یووال ابراہم اور ریچل زور کی ہدایت کاری میں بننے والی اس دستاویزی فلم میں غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق اسرائیلی انٹیلی جنس افسران اور فوجیوں کی گواہیوں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
فلم سازوں کے مطابق دستاویزی فلم کا مقصد ناظرین کے سامنے غزہ کی صورتحال سے متعلق ایسی حقیقت پیش کرنا ہے جسے دیکھنے کے بعد ان کے لیے اس معاملے پر خاموش رہنا مشکل ہوجائے۔
فلم کی وینس فلم فیسٹیول میں نمائش کے بعد حاضرین کا ردعمل بھی انتہائی جذباتی رہا۔ فلم کے اختتام پر شائقین نے کھڑے ہوکر طویل تالیاں بجائیں، جس کا دورانیہ تقریباً 25 منٹ بتایا گیا ہے۔
’نازا‘ میں غزہ میں جاری انسانی بحران اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سے وابستہ افراد کی گواہیوں کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، جس کے باعث فلم نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔



