گھریلوملازمہ گینگ ریپ،اسقاط حمل کےدوران ہلاکت کیس میں اہم پیشرفت

گھریلوملازمہ گینگ ریپ،اسقاط حمل کےدوران ہلاکت کیس میں اہم پیشرفت

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)لاہورپولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ گینگ ریپ کا نشانہ بننے اور اُس کے بعد مبینہ اسقاط حمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے علاج کے دوران ہلاک ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ کے کیس میں قتل کی دفعات شامل کر لی گئی ہیں اور اس سلسلے میں لاہور پولیس کو جیل میں موجود حسن ڈرائیور کی طلبی کی اجازت مل گئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق لاہور پولیس نے حسن ڈرائیور کی طلبی کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا تھا، حسن ڈرائیور کو مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل ہونے پر طلب کیا گیا، پولیس کے مطابق اس کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے لے کر لاہور انویسٹیگیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے جبکہ اس کیس میں نامزد ایک ملزم کو گرفتار کرکے پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جا چکا ہے۔

 پولیس کے مطابق کیس میں نامزد اُن تمام ملزمان کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا گیا ہے جنھیں چند روز قبل ابتدائی تفتیش اور عدالت میں متاثرہ لڑکی کی جانب سے دیے گئے بیان کی بنیاد پر کلیئر قرار دیا گیا تھا اور اب اِن ملزمان کو قتل کی تفتیش میں شامل کیا جائے گا۔

رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والی لڑکی عائشہ کے والد کا دعویٰ ہے کہ عدالت میں دیا گیا 164 کا وہ بیان دباؤ کے تحت دلوایا گیا تھا۔لاہور پولیس کے مطابق عائشہ 26 مئی کو مبینہ طور پر اسقاطِ حمل کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے بعد ہلاک ہوئیں۔ تاہم اُن کا کیس اس وقت سامنے آیا جب اُن کی جانب سے موت سے قبل ریکارڈ کی گئی ایک مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ تفصیلات سے آگاہ کر رہی ہیں۔

لاہور پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 18 سالہ لڑکی کا حمل مبینہ طور پر ضائع کرنے کےلیے اسے رائیونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا تھا اور پھر حالت بگڑنے کے بعد اسے لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ چند روز زیرِعلاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی۔اس واقعے کی ابتدا 28 اپریل کو اس وقت ہوئی جب ماڈل ٹاؤن پولیس نے متاثرہ لڑکی عائشہ کی درخواست پر مبینہ اجتماعی ریپ کی ایف آئی آر درج کی۔ اس مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 375 اے، 338 سی، 114، 201 اور 506 لگائی گئی تھیں۔مدعی مقدمہ نے ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا کہ وہ تقریباً گذشتہ ایک سال سے ماڈل ٹاؤن لاہور میں واقع ایک گھر میں بطور ملازمہ کام کر رہی تھیں۔ایف آئی آر میں متاثرہ لڑکی نے دعویٰ کیا کہ نومبر 2025 میں مالک مکان کا بیٹا اپنی اہلیہ سے ناچاقی کے بعد اپنے والدین کے گھر آیا اور وہیں رہنا شروع کیا۔ لڑکی نے الزام عائد کیا کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران مالک مکان کا بیٹا اور اُس گھر کا ڈرائیور ساتھ مل کر مختلف اوقات پر اس کا ریپ کرتے رہے جس کے باعث وہ وہ حاملہ ہو گئی۔

مزید خبریں

Back to top button