بدین:ٹرانسفارمر سے گری چنگاری نے12گھراور کریانہ کی دکان جلاکر خاکستر کردی

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)بدین کے نواحی گاؤں انڈ ھلو میں بجلی کے ٹرانسفارمر سے اسپارکنگ کی چنگاری سے بارہ کچے گھروں اور ایک کریانہ کی گھر اور دکان مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے خبر کے مطابق بدین سے آ ٹھ کلومیٹر لواری شریف کے قریب گاؤں انڈ ھلو میں بجلی کے کھمبے پر نصب ٹرانسفارمر میں اسپارکنگ کی چنگاریاں قریبی کچے مکان پر گرنے سے آ گ بھڑک اٹھی جس نے مزید بارہ کچے مکانات اور ایک کریانہ کی دکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے نتیجے میں 12 گھر اور ایک کریانہ (ریزکی) دکان مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے آ گ کے باعث لاکھوں روپے مالیت کا قیمتی سامان، گھروں کا فرنیچر، اناج، گھریلو استعمال کی اشیاء، لڑکیوں کا جہیز، بجلی کی تقریباً 30 میٹر تاریں اور انٹرنیٹ کنکشن بھی جل کر تباہ ہو گئے واقعے میں متاثر ہونے والوں میں خیرمحمد خاصخیلی، پیر بخش خاصخیلی، عمران خاصخیلی، شبیر خاصخیلی، ساگر خاصخیلی، راشد خاصخیلی، میر شاہجان ٹالپر، میر نواز ٹالپر، اشوک کمار اور مٹھو میگھواڑ شامل ہیں، جبکہ دیگر گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے متاثرہ دیہاتیوں کے مطابق آگ لگنے کے فوراً بعد انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی بدین کی فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی لیکن وقت پر نہ پہنچنے کے باعث آگ پر قابو پانے میں تاخیر ہوئی گاؤں کے مکینوں کا کہنا تھا کہ میونسپل کمیٹی کی صرف ایک فائر بریگیڈ گاڑی موقع پر پہنچی جو بڑے پیمانے پر لگی آگ بجھانے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی جبکہ دیگر فائر بریگیڈ گاڑیاں خراب بتائی گئیں جس کے باعث آگ مزید پھیل گئی اور بڑا مالی نقصان ہوگیا متاثرہ خاندانوں نے بتایا کہ ان کے گھر کا سامان اور زندگی بھر کی جمع پونجی جل کر خاک ہو گئی ہے اور وہ اس وقت کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار بیٹھے ہیں انہوں نے شکایت کی کہ واقعے کے بعد بھی انتظامیہ کی جانب سے ان کی مدد کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے متاثرین نے اس واقعے کا ذمیوار حیسکو بدین کو ٹھراتے حکومت سندھ، ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری مالی امداد، راشن، عارضی رہائش اور نقصانات کا ازالہ کیا جائے تاکہ وہ اپنی زندگی دوبارہ بحال کر سکیں



