فاروق آباد میں مبینہ اربوں روپے کا مالی فراڈ، “بی ایس گولڈ تھامس” کمپنی اچانک غائب

شیخوپورہ ( عبدالمجید نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے)فاروق آباد اور گردونواح میں مبینہ طور پر “بی ایس گولڈ تھامس” نامی کمپنی اربوں روپے کا فراڈ کر کے اچانک غائب ہو گئی، جس کے بعد متاثرین کی جانب سے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کمپنی نے مختصر وقت میں بھاری منافع کے خواب دکھا کر ہزاروں لوگوں سے کروڑوں روپے بٹورے اور پھر اپنے دفاتر و آن لائن سسٹم کو منجمند کر دیا۔
متاثرین کے مطابق لوگوں نے لالچ اور بہتر مستقبل کی امید میں اپنی جمع پونجی، زیورات، حتیٰ کہ گھروں کا سامان فروخت کر کے بھی اس کمپنی میں سرمایہ کاری کی۔ کئی خاندان ایسے بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے قرض لے کر انویسٹمنٹ کی، مگر اب وہ شدید ذہنی دباؤ اور مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
دوسری جانب شہریوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جس کمپنی کو “امریکی کمپنی” قرار دیا جاتا رہا، وہ درحقیقت کسی بیرون ملک ادارے کی بجائے مقامی سطح پر چلایا جانے والا ایک مبینہ نیٹ ورک تھا، جسے علاقے کے ہی چند آئی ٹی ماہرین یا کمپیوٹر ایکسپرٹس چلا رہے تھے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان کے دیگر شہروں میں اس کمپنی کا زیادہ چرچا نہیں تھا جبکہ فاروق آباد اور اس کے نواحی علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کو اس میں شامل کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کی اسکیمیں عموماً “پونزی اسکیم” یا “فراڈ انویسٹمنٹ ماڈل” کے تحت چلائی جاتی ہیں، جہاں ابتدائی افراد کو منافع دے کر مزید لوگوں کو راغب کیا جاتا ہے، لیکن آخرکار سسٹم بیٹھ جاتا ہے اور عام شہری اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو جاتے ہیں۔لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ماضی میں بھی متعدد آن لائن گیم ایپس، ٹریڈنگ پلیٹ فارمز اور جعلی سرمایہ کاری اسکیمیں بے نقاب ہو چکی ہیں، مگر اس کے باوجود سادہ لوح شہری آج بھی “ڈبل پیسے”، “روزانہ منافع” اور “فوری امیر بننے” کے جھانسے میں آ کر لٹ رہے ہیں۔متاثرین اور شہریوں نے حکومت، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اور دیگر متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے، ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے اور عوام کی ڈوبی ہوئی رقم کی واپسی کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو اس قسم کے فراڈ نیٹ ورکس مزید علاقوں میں بھی معصوم شہریوں کو اپنا شکار بنا سکتے ہیں۔



