سینیٹر فیصل واوڈا کی دھماکے دار انٹری: پیپلز پارٹی کے برے دن شروع!

لاہور: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) وفاقی دارالحکومت کی سیاسی فضا میں اچانک ایک نیا بھونچال آ گیا ہے اور سینیٹر فیصل واوڈا کی دھماکے دار انٹری کے بعد پورے نظام پر کڑی تنقید اور اہم شخصیات کو ہتھکڑیاں لگانے کے مطالبات نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ وفاقی بجٹ کے اس نازک موقع پر فیصل واوڈا نے جہاں مریم نواز کے وزیرِ اعظم بننے کی اندرونی خواہش، کے پی کے میں علی امین گنڈاپور اور سہیل افریدی کی آپسی کتو کتی، اور سندھ میں مراد علی شاہ کو ہٹانے کے حوالے سے سنسنی خیز دعوے کیے ہیں، وہیں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ سال مالی اور ذاتی اخلاقی ویڈیوز کے بدترین سکینڈلز کا سال ثابت ہو گا۔ پی ٹی آئی کے حلقے اس ہنگامے پر مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں لیکن مقتدر حلقوں کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل میں ہی مقیم رہیں گے اور ان کی رہائی کا کوئی چانس نہیں ہے۔ دوسری طرف عسکری اور سیاسی قیادت مکمل طور پر ایک پیج پر ہے اور محسن نقوی کا آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تصویر کے ساتھ حالیہ ٹویٹ اور 19 جون کو امریکہ و ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی تاریخی ڈیل اس ہائبرڈ پلس ماڈل کی مضبوطی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اصل گھیراؤ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کا ہوتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ مقتدر حلقوں کے قریبی صحافیوں اور اینکرز نے آزاد کشمیر کے بحران کے پیچھے پیپلز پارٹی کی مبینہ سیاسی چال کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل راٹھور اور چودھری یاسین کی جانب سے یکدم 12 مہاجر نشستوں کے خاتمے کی حمایت کرنا دراصل مسلم لیگ ن کو سیاسی نقصان پہنچانے کی ایک کوشش ہے کیونکہ ان میں سے 10 نشستیں پنجاب میں ہیں جو ہمیشہ نون لیگ جیتتی ہے۔ پیپلز پارٹی اپنی اس سیاسی چالاکی کے چکر میں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے تاریخی اصولی مؤقف کی قربانی دے کر کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے کیونکہ مہاجر نشستیں ختم ہونے سے کشمیر کا بنیادی مقدمہ ہی کمزور ہو جائے گا، یہی وجہ ہے کہ اب مقتدر حلقوں کی جانب سے پیپلز پارٹی پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور گلگت بلتستان کے بعد اب کشمیر کے معاملے پر بھی بلاول بھٹو کے لیے سخت ترین دن شروع ہونے والے ہیں۔ اس پورے ہنگامے اور فیصل واوڈا کی دبنگ انٹری کی مکمل گراؤنڈ رئیلٹی جاننے کے لیے سینئر تجزیہ کار گوہر بٹ کا یہ خصوصی وی لاگ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے مکمل دیکھیں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button