آزاد کشمیر انتخابات میں پیپلز پارٹی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی، فیصل راٹھور کا دعویٰ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم نہیں کی گئی اور مسلم لیگ (ن) کو کامیاب کرانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے گئے۔

اسلام آباد میں آل کشمیر نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر سردار زاہد تبسم کی قیادت میں وفد سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل راٹھور نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی آزاد کشمیر قیادت انتخابات کے ذریعے جلد حکومت بنانے کی خواہاں تھی، جبکہ پیپلز پارٹی کا مؤقف تھا کہ پہلے آزاد کشمیر میں امن قائم کیا جائے اور اس کے بعد انتخابات کرائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ہر صورت انتخابات کرانے پر مصر رہی، جس کے نتیجے میں آج آزاد کشمیر کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنا ہے، جس کا قابل عمل حل مذاکرات ہیں۔

فیصل راٹھور کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تجویز کردہ سچ کمیشن کے قیام سے تمام اسٹیک ہولڈرز کو موجودہ بحران سے نکلنے کا راستہ مل سکتا ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے الزام عائد کیا کہ نکیال، سہنسہ، کھوئی رٹہ، چڑھوئی، مظفرآباد کے کوٹلہ اور کھاوڑہ سمیت بعض حلقوں میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کو بعد میں شکست میں تبدیل کیا گیا۔

حویلی کے انتخابی نتائج پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں غیر ضروری طور پر متنازع بنایا گیا، حالانکہ 2026 کے انتخابات حویلی کی تاریخ کے پرامن ترین انتخابات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق 2011، 2016 اور 2021 کے انتخابات کے دوران حویلی میں بدامنی اور کشیدگی کے واقعات پیش آچکے ہیں۔

فیصل راٹھور نے کہا کہ بحیثیت وزیراعظم انہوں نے انتخابات کے دوران کسی قسم کی مداخلت نہیں کی۔ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چودھری محسن عزیز کی جانب سے دھاندلی کے الزامات پر پیپلز پارٹی قانونی اور آئینی فورمز پر جواب دے گی۔

انہوں نے کہا کہ کسی امیدوار کو انتخابی بے ضابطگی کی شکایت ہے تو الیکشن ٹریبونل سمیت آئینی و قانونی فورمز موجود ہیں جہاں شواہد کے ساتھ رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق انتخابی معاملات پر دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت کے درمیان متعدد ملاقاتیں بھی ہوچکی ہیں۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے حکومت کی تقریباً آٹھ ماہ کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہا کہ مشکل مالی حالات کے باوجود گورننس، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل سہولیات کے شعبوں میں اقدامات کیے گئے۔ آؤٹ آف اسکول چلڈرن پروگرام کے لیے تقریباً 7 ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ بڑے ہسپتالوں اور میڈیکل کالج کی تعمیر کے منصوبوں کو بھی آگے بڑھایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کے لیے آئی ٹی اور ڈیجیٹل مواقع، سیاحت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ آزاد کشمیر میں آپٹیکل فائبر منصوبے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ 5 جی ٹیکنالوجی کے ٹرائل سے متعلق پالیسی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button