فضل شکور کی گرفتاری کو خیبرپختونخوا اسمبلی میں اغوا قرار دے دیا گیا

پشاور (جانو ڈاٹ پی کے) خیبرپختونخوا اسمبلی نے صوبائی وزیر فضل شکور کی گرفتاری پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے اسے اغوا قرار دے دیا، جبکہ پولیس کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے اس کے اختیارات کم کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال، حالیہ گرفتاریوں اور ارکان اسمبلی سے متعلق واقعات پر بحث کی گئی۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران صوبے میں متعدد ناخوشگوار واقعات پیش آئے، جبکہ کوہاٹ میں ہونے والے دھماکے میں کئی افراد شہید اور زخمی ہوئے۔ انہوں نے دھماکے کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی بھی کرائی۔
اسپیکر نے دعویٰ کیا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی موجودگی کے باوجود گرفتاری کے نام پر اغوا کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق صوبائی وزیر شکیل خان کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ صوبائی وزیر فضل شکور کو اغوا کیا گیا۔
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ شکیل خان کے خلاف دفعہ 324 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ فضل شکور کو اغوا کیا گیا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایم پی اے زاہد اللہ کے بیٹے کو بھی اغوا کیا گیا، جبکہ صوبائی وزیر عارف احمد زئی کے سیکریٹری اور گارڈ کو بھی حراست میں لیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے صوبائی وزراء کے خلاف درج مقدمات سے متعلق آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی، تاہم پولیس کی مبینہ غیر ذمہ داری پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کو پہلے ہی خصوصی اور محکمہ خزانہ کے ذریعے براہ راست فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں، تاہم اگر صورتحال برقرار رہی تو پولیس کے اختیارات کم کرنے پر غور کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایوان کی جانب سے پولیس کے اختیارات محدود کرنے اور سخت سزاؤں کی سفارش بھی سامنے آسکتی ہے۔
اجلاس کے دوران اسپیکر نے فضل شکور کی گرفتاری کی ویڈیو بھی ایوان میں چلائی اور کہا کہ اگر کسی کے خلاف مقدمہ موجود ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے پولیس اور انتظامیہ کے افسران پر زور دیا کہ وہ آئین و قانون اور اپنے حلف کے مطابق فرائض انجام دیں۔
اسپیکر نے مزید کہا کہ گرفتاریوں اور مبینہ اغوا کے واقعات سے صوبے میں مزید کشیدگی اور نفرت پیدا ہوسکتی ہے، اس لیے معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ فضل شکور کی گرفتاری سے متعلق ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس کے بارے میں پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے دعویٰ کیا کہ نقاب پوش افراد نے موٹروے پر صوبائی وزیر کی گاڑی کو روکا اور انہیں حراست میں لے لیا۔ اس ویڈیو اور واقعے کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔



