ایران کے میزائل یورپ اور امریکی شہروں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ایسے میزائل تیار کر چکا ہے جو یورپ تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ سان ڈیاگو، لاس اینجلس اور امریکا کے دیگر شہروں کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔
امریکی ریاست مسیسیپی میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں کی بلکہ ان کے بقول ایران نے امریکا کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔
فوجی کارروائی کے معاشی اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں توقع تھی کہ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں کہیں زیادہ بڑھ جائیں گی، تاہم قیمتیں ان کی توقعات کے برعکس کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس اقدام کے لیے پوری طرح تیار تھے اور ان کے خیال میں یہ کارروائی بہت پہلے ہونی چاہیے تھی۔
جنگ بندی سے متعلق امریکی صدر نے کہا کہ وہ ابتدا ہی سے اس انتظام کے زیادہ حامی نہیں تھے۔ ان کے مطابق امریکا نے جنگ بندی کرکے اچھا بننے کی کوشش کی، لیکن ان کے نزدیک یہ وقت کا ضیاع ثابت ہوئی۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران مشکلات کا شکار ہے اور آبنائے ہرمز پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے۔ انہوں نے اپنی پہلی صدارتی مدت کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے خاتمے کا بھی ذکر کیا۔
ووٹر فراڈ کی معلومات دینے والے کے لیے 10 لاکھ ڈالر انعام
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایسے شخص کو 10 لاکھ ڈالر انعام دیا جائے گا جس کی فراہم کردہ معلومات کے نتیجے میں ووٹر فراڈ کے مقدمے میں سزا ہو۔
یہ اعلان امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے صرف آٹھ روز قبل سامنے آیا ہے، جبکہ رپورٹ کے مطابق تین کروڑ ووٹرز پہلے ہی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے انعامی رقم کے لیے فنڈز فراہم کرنے کا طریقۂ کار واضح نہیں کیا۔ دوسری جانب انتخابی جائزوں کے مطابق غیر امریکی شہریوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر ووٹنگ کے واقعات انتہائی کم پائے گئے ہیں۔
ٹرمپ کے اس اعلان سے امریکا میں انتخابی عمل کی شفافیت اور ووٹر فراڈ سے متعلق جاری سیاسی بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔



