لاہور ہائیکورٹ نے سابق رجسٹرار اور سب رجسٹرار کی عبوری ضمانتیں خارج کردیں

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے اینٹی کرپشن کے مقدمات میں نامزد سابق رجسٹری محرر تاج محمود اور سابق سب رجسٹرار محبوب اقبال کی عبوری ضمانتیں خارج کردیں۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواستوں پر سماعت کی، جس میں ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ دیگر افسران کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ڈی جی اینٹی کرپشن سے ان کا مؤقف دریافت کیا، جس پر سہیل ظفر چٹھہ نے انکوائریوں اور تفتیش کے طریقہ کار سے متعلق رپورٹ پیش کی۔

ڈی جی اینٹی کرپشن نے عدالت کو بتایا کہ انکوائریوں کو 15 سے 30 روز میں مکمل کرنے کے لیے قانون میں ترامیم کی تجویز تیار کی جا رہی ہے، جس کا مسودہ چیف سیکرٹری کو بھجوانے کی تیاری ہے۔ انہوں نے مجوزہ قانونی ترامیم کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کو مستقل رکھا جائے گا یا عارضی بنیادوں پر خدمات حاصل کی جائیں گی؟ اس پر ڈی جی اینٹی کرپشن نے بتایا کہ ڈیپوٹیشن پر افسران عارضی بنیادوں پر تعینات کیے جائیں گے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ ڈیپوٹیشن کا معاملہ ختم ہونے سے نظام میں بہتری آئے گی۔ عدالت نے اینٹی کرپشن میں ڈیپوٹیشن کے بجائے مستقل افسران تعینات کرنے اور تمام آسامیوں پر بھرتیاں مکمل کرکے ڈیپوٹیشن کا نظام ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

عدالت کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق اینٹی کرپشن کے 60 فیصد افسران مستقل جبکہ 40 فیصد ڈیپوٹیشن پر تعینات ہیں۔ چیف جسٹس نے انکوائری اور تفتیش کے نظام میں اصلاحات سے متعلق سوالات بھی کیے۔

ڈی جی اینٹی کرپشن نے بتایا کہ مزید تفتیش کے لیے 15 سے 30 روز درکار ہوں گے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے وائٹ کالر جرائم کی تحقیقات کو اہمیت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں میں ہزاروں رجسٹریاں تصدیق نہ ہونے کے باعث منظور نہیں ہوتیں۔

مزید خبریں

Back to top button