ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات پر ٹائم فریم دینے سے انکار، معاشی و فوجی دباؤ جاری رکھنے کا اعلان

واشنگٹن (ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے کسی ٹائم فریم کا اعلان کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن تہران پر معاشی دباؤ اور فوجی کارروائی، دونوں کو مؤثر سمجھتا ہے۔
الجزیرہ کو دیے گئے مختصر انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی شیڈول طے نہیں کیا گیا اور امریکا بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے جلدی میں نہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن تہران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے انتظار کرسکتا ہے۔
ایران کی معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ملک شدید مہنگائی کا شکار ہے اور اس کی معیشت تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر پابندیاں اور فوجی کارروائی، دونوں مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی ترجیح سفارت کاری ہے، تاہم ایسا معاہدہ ضروری ہے جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار بنانے سے دستبردار ہوجائے۔ ان کے مطابق مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایرانی جوہری تنصیبات کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن موجود ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا فی الحال معاشی دباؤ کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم آبنائے ہرمز سمیت کسی بھی مقام پر فوجی کارروائی کا آپشن برقرار ہے۔
ادھر ایران نے امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’معاشی دہشتگردی‘ قرار دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ سے امریکی یکطرفہ پابندیوں اور ایران کے ساتھ جائز تجارت کرنے والے ممالک پر دباؤ کی مذمت کا مطالبہ کیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ امریکی معاشی دباؤ ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔
اس دوران آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے۔ تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، تاہم یہ گزشتہ 10 روز کی اوسط سے کم رہی۔ ایک ٹینکر کو نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائل سے نقصان پہنچا اور اس میں آگ لگ گئی، تاہم بعد ازاں آگ پر قابو پالیا گیا اور عملہ محفوظ رہا۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی کا تہران کا دورہ خطے میں امن و سلامتی کے لیے قطری ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی امریکا سے مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سفارت کاری ایران کے قومی مفادات کے تحفظ میں مدد دے تو اسے کمزوری یا پسپائی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
یوں واشنگٹن ایک طرف سفارت کاری کو ترجیح دینے کا دعویٰ کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران پر معاشی اور فوجی دباؤ برقرار رکھنے کا عندیہ دے رہا ہے۔ تہران بھی امریکی دباؤ مسترد کرتے ہوئے سفارتی راستے کو مکمل طور پر بند کرنے سے گریزاں ہے، جبکہ قطر کی ثالثی کی کوششیں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری ہیں۔



