ڈیپلو اسپتال کی نئی عمارت کیلئے گرانٹ منظور، بلند اور محفوظ مقام پر تعمیر کا مطالبہ،موجودہ مقام خطرناک قرار: شہری

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر کے تعلقہ ڈیپلو میں اندازن 46 کروڑ روپے کی منظور شدہ اسپتال کی نئی عمارت کی تعمیر کے حوالے سے پلاٹ کے انتخاب اور سروے کا معاملہ تیز ہو گیا ہے۔

ماہر انجینئرز نے موجودہ اسپتال کے مقام کو برسات کے موسم میں انتہائی حساس اور سیلاب کے خطرے سے دوچار قرار دیتے ہوئے سفارش کی ہے کہ نئی اسپتال شہر سے باہر کسی بلند اور محفوظ مقام ر تعمیر کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی نقصان سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب ڈیپلو شہر کے مختلف سیاسی، سماجی اور شہری حلقوں کے رہنماؤں میوارام ساقی، مولوی عباس کلر، محمد ابراہیم لنڈ، محمد عمر بجیر، فارق اعظم مریداڻي، محمد رفیق قمبراڻي اور دیگر نے اس سفارش کی حمایت کرتے ہوئے سندھ حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال کی نئی عمارت جدید تقاضوں کے مطابق اور کم از کم 100 سالہ طویل منصوبہ بندی کے تحت مستقل بنیادوں پر تعمیر کی جائے۔

سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ مقام برساتوں میں پانی سے بھر جانے کے باعث عملی طور پر اسپتال ایک تالاب کا منظر پیش کرتا ہے، جس سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسی مقام پر نئی عمارت دوبارہ تعمیر کی گئی تو کمزور مٹی اور زمینی ساخت کے باعث عمارت کی مضبوطی اور عمر متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے حکومت کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر عمارت کو بلند کر کے تعمیر کیا گیا تو برساتی پانی آس پاس کی آبادی کے لیے سیلاب کا سبب بن سکتا ہے، جس سے ایک نیا مسئلہ پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

شہری حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر اسپتال کو اسی مقام پر دوبارہ ڈھا کر تعمیر کیا گیا تو کم از کم پانچ سال تک علاقے کے لاکھوں افراد کو صحت کی سہولیات متاثر ہوں گی، جس دوران علاج، ایمرجنسی سروسز، بجلی نظام، مشینری اور مکمل انفراسٹرکچر مفلوج ہو سکتا ہے۔

عوامی اور سماجی حلقوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ موجودہ اسپتال کو جاری رکھتے ہوئے نئی عمارت شہر سے باہر محفوظ اور مناسب مقام پر تعمیر کی جائے تاکہ مریضوں کو بہتر علاج، صاف ماحول اور جدید سہولیات فراہم ہو سکیں۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ نئی اسپتال مکمل ہونے کے بعد موجودہ عمارت کو تدریسی، لیبارٹری یا دیگر صحت سے متعلق خدمات کے لیے استعمال کیا جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ چند افراد کی خواہشات پر موجودہ عمارت کو ڈھا کر دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کرنا کوئی پائیدار حل نہیں، بلکہ یہ مستقبل میں مزید خطرات اور نقصانات پیدا کر سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button