تھرپارکر میں خطرے کی گھنٹی،صرف7ماہ میں88مبینہ خودکشیوں نے سب کوچونکادیا

تھرپارکر میں بڑھتے مبینہ خودکشی کے واقعات، آخر نوجوان کیوں زندگی سے مایوس ہو رہے ہیں؟

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی) ضلع تھرپارکر میں سال 2026 کے دوران خودکشی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے، جس نے علاقے میں ذہنی صحت، سماجی مسائل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 30 جولائی 2026 تک ضلع بھر میں خودکشی کے مجموعی طور پر 88 واقعات سامنے آئے، جن میں 8 رپورٹ شدہ جبکہ 80 غیر رپورٹ شدہ واقعات شامل بتائے گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق متاثرین میں 51 مرد اور 42 خواتین شامل ہیں، جبکہ مذہبی اعتبار سے 67 ہندو اور 26 مسلمان متاثرین کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم مذکورہ اعداد و شمار میں مجموعی تعداد اور بعض زمروں کے درمیان فرق موجود ہے، اس لیے ان اعداد کی سرکاری سطح پر مزید تصدیق ضروری ہے۔

عمر کے لحاظ سے ایک سے 14 سال کے 5، 15 سے 20 سال کے 24، 21 سے 30 سال کے 35، 31 سے 40 سال کے 16، 41 سے 60 سال کے 8 جبکہ 60 سال سے زائد عمر کے 5 افراد نے مبینہ طور پر خودکشی کی۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ 21 سے 30 سال کی عمر کے نوجوان ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے تھرپارکر میں خودکشیوں کے بڑھتے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، جس کے باعث ضلع ذہنی صحت کے حوالے سے خصوصی توجہ کا متقاضی بن چکا ہے۔

مختلف وجوہات سامنے آنے کا دعویٰ

ذرائع اور سماجی حلقوں کے مطابق خودکشیوں کے پس منظر میں مختلف سماجی، معاشی اور نفسیاتی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں، جن میں جائیداد کے تنازعات، خاندانی اختلافات، مبینہ جنسی ہراسانی، نازیبا ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ، لڑکیوں کو دھمکیاں، ناجائز تعلقات کے لیے دباؤ، ناپسندیدہ حمل، پسند کی شادی نہ ہونے، غربت، بے روزگاری، بھوک اور بدحالی جیسے مسائل شامل ہیں۔

بعض اموات پر سوالات

رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ بعض ایسے واقعات، جنہیں خودکشی قرار دیا گیا، ان کے حوالے سے مقامی سطح پر قتل کے شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض خاندان پولیس کارروائی، مقدمات کے اخراجات یا مبینہ دباؤ کے باعث مکمل تحقیقات کے لیے آگے نہیں بڑھتے، جبکہ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ بااثر افراد کی مداخلت کے باعث بھی بعض معاملات منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

رپورٹ میں مٹھی سے تعلق رکھنے والے نوجوان سورج میگھواڑ کے واقعے کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں ورثاء نے الزام عائد کیا کہ مبینہ بلیک میلنگ کے باعث وہ کراچی میں انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوا۔ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی طرح مٹھی میں ڈاکٹر عبدالکریم شیخ اور اسلام کوٹ میں ایک ڈاکٹر کی موت کے واقعات کے حوالے سے بھی مختلف سوالات اٹھائے گئے ہیں اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ماہرین نفسیات کے مطابق تنہائی، ذہنی دباؤ، مایوسی اور بروقت مدد کا نہ ملنا ایسے واقعات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد شدید ذہنی اذیت کے دوران وقتی جذبات کے زیراثر انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں، جبکہ بروقت نفسیاتی معاونت اور خاندانی تعاون سے ایسے سانحات کو روکا جا سکتا ہے۔

حالیہ دنوں کے واقعات

رپورٹ کے مطابق ضلع کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں کے دوران متعدد واقعات پیش آئے، جن میں چار افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ تین افراد کو بروقت بچا لیا گیا۔

ان واقعات میں گاؤں سینگارو کی نوجوان لیلاں، ڈیپلو کے گاؤں ویڑی جھپ کے طوطو میگھواڑ، مٹھی کی شامداس کالونی کے سریش میگھواڑ، گاؤں جامن سموں کے بھگڑو کولہی اور ڈیڈسر کی عزیزاں بیگم کی اموات شامل ہیں، جبکہ پریتم میگھواڑ اور اس کی اہلیہ بھاگاں، پارسان کولہی اور ننگرپارکر کی پابی کولہی سمیت چند افراد کی مبینہ خودکشی کی کوششوں کے بعد انہیں بچا لیا گیا۔ پولیس کے مطابق بیشتر واقعات کی وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں اور مختلف تھانوں میں تحقیقات جاری ہیں۔

حکومتی اقدامات کا مطالبہ

سماجی رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور شہریوں نے حکومت سندھ، محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ہر واقعے کی غیرجانبدارانہ اور سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کرائی جائیں۔ضلع کے تمام تعلقوں میں ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ماہرین نفسیات تعینات کیے جائیں اور نوجوانوں کے لیے مشاورتی مراکز قائم کیے جائیں۔آن لائن بلیک میلنگ، ہراسانی اور استحصال کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کی جائے۔غربت، بے روزگاری اور دیگر سماجی و معاشی مسائل کے حل کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے تاکہ مزید قیمتی انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button